طرابلس : یورپ پہنچ کر ایک بہتر زندگی شروع کرنے کا خواب دیکھنے والے درجنوں تارکینِ وطن کی امیدیں ایک بار پھر بحیرۂ روم کی بے رحم لہروں میں ڈوب گئی ہیں۔ لیبیا کے ساحلی شہر طبرق کے قریب غیر قانونی طور پر یورپ جانے والی تارکینِ وطن کی ایک کشتی سمندر میں الٹ گئی، جس کے نتیجے میں 50 سے زائد افراد کے جاں بحق یا لاپتا ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس بدقسمت کشتی میں اندازاً 60 افراد سوار تھے جو بہتر مستقبل کی تلاش میں غیر قانونی سمندری راستے سے یورپ جانے کی کوشش کر رہے تھے۔ ساحلِ طبرق کے قریب اچانک توازن بگڑنے سے کشتی سمندر کی تیز لہروں کا شکار ہو گئی۔ حادثے کے فوری بعد مقامی کوسٹ گارڈز اور امدادی ٹیموں نے آپریشن شروع کیا، جس کے دوران صرف 10 افراد کو بحفاظت زندہ نکالا جا سکا، جبکہ باقی سوار سمندر میں ڈوب گئے۔ لاپتا افراد کی تلاش کے لیے سمندر میں بڑے پیمانے پر ریسکیو آپریشن تاحال جاری ہے، تاہم وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ مزید کسی کے زندہ بچنے کی امیدیں دم توڑتی جا رہی ہیں۔
واضح رہے کہ ہر سال ہزاروں بے روزگار اور پسماندہ ممالک کے نوجوان غربت، جنگ، اور معاشی بدحالی سے تنگ آ کر انسانی اسمگلروں کے جھانسے میں آتے ہیں۔ لیبیا کا ساحلی راستہ یورپ، خصوصاً اٹلی پہنچنے کے لیے سب سے خطرناک اور بڑا روٹ مانا جاتا ہے، جہاں ہر سال سینکڑوں معصوم انسان اپنی منزل مقصود تک پہنچنے سے پہلے ہی موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے واقعے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں تاکہ ملوث انسانی اسمگلرز کے نیٹ ورک کا سراغ لگایا جا سکے۔