ویب ڈیسک: پنجاب کے ضلع اٹک میں جی ٹی روڈ پر پیش آنے والے دل دہلا دینے والے واقعے میں ہائی وے اینڈ موٹروے پولیس کے فرض شناس افسر جاوید اکبر ڈمپر کی زد میں آ کر شہید ہو گئے۔ پولیس کے مطابق واقعہ مبینہ طور پر اوور لوڈنگ کے خلاف کارروائی کے دوران پیش آیا، جہاں ڈرائیور نے مالک کی ہدایت پر پولیس اہلکار کو گاڑی تلے کچل دیا۔
ہائی وے پولیس حکام کے مطابق حادثہ لارنس پور ٹول پلازہ کے قریب پیش آیا۔ پٹرولنگ آفیسر جاوید اکبر نے اوور لوڈ ڈمپر کو روکنے کا اشارہ کیا اور ڈرائیور سے چالان کے لیے ضروری دستاویزات اور ڈرائیونگ لائسنس طلب کیا، تاہم ڈرائیور نے قانون پر عمل کرنے کے بجائے مبینہ طور پر ڈمپر افسر پر چڑھا دیا، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گئے۔
پولیس کو واقعے کی سی سی ٹی وی فوٹیج بھی حاصل ہو گئی ہے، جس کی مدد سے تحقیقات کا عمل جاری ہے۔
موٹروے پولیس کے ترجمان کے مطابق ابتدائی تحقیقات میں انکشاف ہوا ہے کہ ڈمپر ڈرائیور نے مبینہ طور پر اپنے مالک کے کہنے پر یہ انتہائی اقدام کیا۔ پولیس کے مطابق مقدمے میں درج بیان کے مطابق ٹرک مالک نے فون پر ڈرائیور کو افسر کو ٹکر مارنے اور گاڑی لے کر فرار ہونے کا کہا۔
پولیس حکام کا کہنا ہے کہ واقعے سے متعلق اہم شواہد اکٹھے کر لیے گئے ہیں جبکہ ڈمپر مالک اور ڈرائیور کے خلاف سنگین دفعات کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔ دونوں ملزمان تاحال مفرور ہیں، تاہم ان کی گرفتاری کے لیے کارروائیاں جاری ہیں۔
شہید پولیس افسر جاوید اکبر کے اہلِ خانہ میں بیوہ اور پانچ بچے شامل ہیں۔ ان کی اچانک وفات کی خبر ملتے ہی گھر میں کہرام مچ گیا جبکہ علاقے میں بھی سوگ کی فضا پھیل گئی۔
شہید جاوید اکبر کی نمازِ جنازہ مردان میں ادا کی گئی، جس میں پولیس افسران، اہلخانہ اور شہریوں کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔ بعد ازاں انہیں پورے سرکاری اعزاز کے ساتھ سپردِ خاک کر دیا گیا۔
آئی جی موٹروے پولیس نے شہید اہلکار کے اہلِ خانہ سے اظہارِ تعزیت کرتے ہوئے کہا کہ محکمہ اس مشکل وقت میں ورثا کے ساتھ کھڑا ہے اور انہیں ہر ممکن تعاون فراہم کیا جائے گا۔
انہوں نے جاوید اکبر کی قربانی کو خراجِ عقیدت پیش کرتے ہوئے کہا کہ فرض کی انجام دہی میں جان قربان کرنے والے اہلکار پورے ادارے کے لیے باعثِ فخر ہیں اور ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔