حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
امریکا، ایران جنگ میں خطرناک موڑ، پانچویں رات شدید حملے، ایران کے کویت، اور اردن میں امریکی تنصیبات اور فوجیوں پر حملے Home / بین الاقوامی /

امریکا، ایران جنگ میں خطرناک موڑ، پانچویں رات شدید حملے، ایران کے کویت، اور اردن میں امریکی تنصیبات اور فوجیوں پر حملے

ایڈیٹر - 16/07/2026
امریکا، ایران جنگ میں خطرناک موڑ، پانچویں رات شدید حملے، ایران کے  کویت، اور  اردن  میں امریکی تنصیبات اور فوجیوں پر حملے

ویب ڈیسک: امریکا اور ایران کے درمیان جاری فوجی کشیدگی مسلسل پانچویں رات بھی انتہائی شدت اختیار کیے رہی۔ دونوں ممالک کی جانب سے فضائی، میزائل اور ڈرون کارروائیوں کے دعوے کیے گئے، جبکہ تنازع کا دائرہ خلیجی خطے کے دیگر ممالک تک بھی پھیلنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ 15 جولائی کی شب ایران کے خلاف ایک نئی فوجی کارروائی مکمل کی گئی، جس کا مقصد آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی بحری آمدورفت کو محفوظ بنانا اور تجارتی جہازوں کے لیے راستہ یقینی بنانا تھا۔

امریکی فوج کے مطابق کارروائی کے دوران ایران کے فوجی مراکز، کمانڈ اینڈ کنٹرول تنصیبات، فضائی دفاعی نظام، میزائل اور ڈرون اڈوں سمیت ساحلی نگرانی کے مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ بندر عباس اور دیگر مقامات پر انتہائی درست ہدف کو نشانہ بنانے والے ہتھیار استعمال کیے گئے۔

امریکی حکام کا مزید دعویٰ ہے کہ اس سے قبل تنبِ بزرگ جزیرے پر واقع ایرانی ساحلی دفاعی تنصیبات اور کروز میزائل سائٹس پر بھی طویل فضائی کارروائی کی گئی۔

دوسری جانب ایرانی ذرائع ابلاغ نے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی حملوں میں چاہ بہار، اہواز اور بندر عباس کے مختلف مقامات کو نشانہ بنایا گیا۔ رپورٹس کے مطابق چاہ بہار میں بحری نگرانی کے ایک ٹاور کو نقصان پہنچا، جبکہ اہواز میں ایک میزائل کینسر اسپتال کے قریب گرا، تاہم وہاں کسی جانی نقصان کی اطلاع نہیں ملی۔

امریکی سینٹرل کمانڈ نے یہ دعویٰ بھی کیا کہ ایرانی بندرگاہ کی جانب بڑھنے والے ایک تجارتی آئل ٹینکر کو امریکی بحری ناکہ بندی کی خلاف ورزی اور متعدد وارننگز نظر انداز کرنے پر میزائل حملے کے ذریعے ناکارہ بنا دیا گیا۔

ادھر ایران کی پاسداران انقلاب نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوب مغربی ایران کے شہر اندیمشک کی فضائی حدود میں پرواز کرنے والے جدید امریکی ایم کیو نائن ڈرون کو مقامی دفاعی نظام کی مدد سے مار گرایا گیا۔

ایرانی فوج اور پاسداران انقلاب نے یہ بھی دعویٰ کیا ہے کہ امریکی حملوں کے جواب میں کویت اور اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات کو میزائل اور ڈرون حملوں کا نشانہ بنایا گیا۔ ایرانی سرکاری ذرائع کے مطابق کویت میں علی السالم فضائی اڈے پر امریکی فوجی اجتماع اور ابتدائی انتباہی ریڈار نظام کو نشانہ بنایا گیا۔

اسی طرح ایرانی فوج کا کہنا ہے کہ اردن کے الازرق فوجی اڈے پر امریکی مواصلاتی نظام اور ایندھن ذخیرہ کرنے کی تنصیبات پر بھی حملے کیے گئے۔

تاہم ان دعوؤں پر فوری طور پر امریکی محکمہ دفاع یا امریکی سینٹرل کمانڈ کی جانب سے کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔

دوسری طرف اردن کی حکومت نے تصدیق کی ہے کہ اس کے فضائی دفاعی نظام نے ملکی فضائی حدود میں داخل ہونے والے آٹھ ایرانی میزائلوں کو فضا ہی میں تباہ کر دیا۔

ایران کی پاسداران انقلاب نے مزید خبردار کیا ہے کہ اگر موجودہ صورتحال برقرار رہی تو مشرق وسطیٰ سے توانائی کی برآمدات کے اہم تجارتی راستے بند کیے جا سکتے ہیں۔ تنظیم نے اپنے بیان میں کہا کہ یا تو توانائی کی ترسیل سب کے لیے جاری رہے گی یا پھر کسی کے لیے بھی نہیں۔

ایرانی فوج کے ترجمان نے بھی کہا کہ آبنائے ہرمز اس وقت تک بند رہے گی جب تک امریکا ایران کے قانونی نظام حکومت کو تسلیم نہیں کرتا۔

ادھر ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر باقر قالیباف نے کہا کہ آبنائے ہرمز کی سلامتی اور اس سے متعلق تمام انتظامات ایران کی قومی سلامتی کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایرانی مسلح افواج کو ہر قسم کی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کا اختیار حاصل ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے ہر ممکن اقدام کیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ ایران اپنی سلامتی، خودمختاری اور قومی مفادات کے دفاع کے لیے سفارتی اور عسکری دونوں راستوں کو بروئے کار لائے گا۔

دوسری جانب ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے دعویٰ کیا ہے کہ حالیہ امریکی حملوں میں دو خواتین اور بچوں سمیت 30 سے زائد شہری جان کی بازی ہار چکے ہیں، جبکہ 260 سے زیادہ افراد زخمی ہوئے ہیں۔

ایرانی حکام کے مطابق صوبہ سیستان و بلوچستان کے علاقے ایران شہر کے بمپور فوجی اڈے پر امریکی میزائل حملے میں سات فوجی اہلکار بھی ہلاک ہوئے، جبکہ حویزہ میں گندم کے ایک گودام کو بھی نقصان پہنچا۔

ایران نے ان کارروائیوں کے جواب میں آپریشن نصر ٹو کی ساتویں لہر شروع کرنے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ بحرین، کویت اور اردن میں قائم امریکی فوجی اڈوں پر ڈرون اور میزائل حملے کیے گئے۔

ایرانی حکام کا مزید دعویٰ ہے کہ بحرین میں امریکی ففتھ فلیٹ کے کمانڈ سینٹر اور شیخ عیسیٰ فضائی اڈے پر موجود اسلحہ گوداموں کو نشانہ بنایا گیا، جبکہ اردن کے موافق السلطی فضائی اڈے پر امریکی جنگی طیاروں کے ہینگرز کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔

نوٹ: اس خبر میں شامل متعدد فوجی کارروائیوں، ہلاکتوں اور نقصانات سے متعلق معلومات امریکا، ایران اور دیگر متعلقہ فریقین کے سرکاری بیانات اور دعوؤں پر مبنی ہیں۔ ان میں سے کئی دعوؤں کی آزاد ذرائع سے بیک وقت تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔