حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
قومی اسمبلی سے استعفے کے بعد بڑا قدم، اختر مینگل نے لاکھوں روپے سرکاری خزانے میں جمع کرا دیے Home / سیاست /

قومی اسمبلی سے استعفے کے بعد بڑا قدم، اختر مینگل نے لاکھوں روپے سرکاری خزانے میں جمع کرا دیے

ایڈیٹر - 11/07/2026
قومی اسمبلی سے استعفے کے بعد بڑا قدم، اختر مینگل نے لاکھوں روپے سرکاری خزانے میں جمع کرا دیے

اسلام آباد: بلوچستان نیشنل پارٹی کے سربراہ سردار اختر مینگل نے قومی اسمبلی کی رکنیت کے دوران حاصل ہونے والی تنخواہیں اور مالی مراعات قومی خزانے میں واپس کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے تقریباً 79 لاکھ روپے کا چیک قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو ارسال کر دیا۔

ذرائع کے مطابق سردار اختر مینگل نے 78 لاکھ 92 ہزار 725 روپے کی رقم واپس کرتے ہوئے قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کو ایک تحریری مراسلہ بھی بھجوایا، جس میں بتایا گیا کہ یہ رقم 3 ستمبر 2024 سے 11 فروری 2026 تک کی تنخواہوں اور متعلقہ مراعات پر مشتمل ہے۔

اپنے خط میں انہوں نے مؤقف اختیار کیا کہ استعفیٰ پیش کرنے کے بعد انہوں نے اپنے پارلیمانی بینک اکاؤنٹ سے کسی بھی قسم کی تنخواہ یا الاؤنس استعمال نہیں کیا۔ انہوں نے سیکریٹریٹ سے درخواست کی کہ اکاؤنٹ میں موجود تمام بقایا رقم بھی قومی خزانے میں منتقل کر دی جائے۔

سردار اختر مینگل نے اپنے مراسلے میں اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ وہ عوامی نمائندگی کے دوران دیانت داری، شفافیت اور جوابدہی کے اصولوں پر کاربند رہنے کو اپنی ذمہ داری سمجھتے ہیں۔

یاد رہے کہ سردار اختر مینگل نے بلوچستان کی سیاسی اور امن و امان کی صورتحال پر احتجاج کرتے ہوئے 3 ستمبر 2024 کو قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دے دیا تھا، جسے بعد ازاں اسپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے 11 فروری 2026 کو باضابطہ طور پر منظور کیا۔

اختر مینگل عام انتخابات میں بلوچستان کے ضلع خضدار کے حلقہ این اے 256، قلعہ سیف اللہ سے رکن قومی اسمبلی منتخب ہوئے تھے۔

استعفے کے موقع پر انہوں نے اپنے خط میں مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچستان کے عوام کے مسائل مؤثر انداز میں اجاگر نہ کیے جا سکے، جبکہ پارلیمان میں بھی صوبے کے معاملات کو مطلوبہ اہمیت نہیں دی گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے حالات میں اسمبلی کی رکنیت برقرار رکھنا ان کے لیے بے معنی ہو چکا تھا۔

دوسری جانب سینئر صحافی وقار ستی نے اس پیش رفت پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ یہ معاملہ ان منتخب نمائندوں کے لیے بھی قابلِ توجہ ہے جو استعفیٰ دینے کے باوجود مراعات سے دستبردار نہیں ہوتے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ رقم قومی اسمبلی سیکریٹریٹ کی جانب سے حساب طلب کیے جانے کے بعد واپس کی گئی، اور اگر آڈٹ کا عمل نہ ہوتا تو یہ معاملہ شاید سامنے نہ آتا۔