بینک آف خیبر میں اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیاں اور انتظامی بدعنوانیاں صوبے کے عوام کے وسائل پر بدترین ڈاکہ ہیں، ایمل ولی خان
پشاور (حسبان نیوز): عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر سینیٹر ایمل ولی خان نے بینک آف خیبر (BoK) میں سامنے آنے والی اربوں روپے کی مبینہ مالی بے ضابطگیوں، اقرباء پروری، اور انتظامی بدعنوانیوں کی انٹرنل آڈٹ رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے معاملے کی فوری، آزادانہ اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔ اپنے ایک تند و تیز بیان میں انہوں نے واضح کیا کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں، تو یہ خیبرپختونخوا کے عوام کے وسائل پر بدترین داکہ زنی کے مترادف ہوگا، جس سے صوبے کے واحد سرکاری مالیاتی ادارے کی ساکھ کو ناقابل تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
ایمل ولی خان نے پاکستان تحریک انصاف کی صوبائی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ پی ٹی آئی گزشتہ 13 برسوں سے صوبے میں احتساب، شفافیت اور گڈ گورننس کے راگ الاپ رہی ہے، لیکن آج حقیقت یہ ہے کہ خیبرپختونخوا کا شاید ہی کوئی ایسا ادارہ بچا ہو جو بدعنوانی اور میرٹ کی پامالی کے سنگین الزامات کی زد میں نہ ہو۔ انہوں نے کہا کہ بینک آف خیبر میں اربوں روپے کی مبینہ بے ضابطگیاں موجودہ حکومتی کارکردگی اور ان کے بلند و بانگ دعووں پر ایک بہت بڑا اور سنگین سوالیہ نشان ہیں۔
مرکزی صدر اے این پی نے بینک آف خیبر کے منیجنگ ڈائریکٹر (MD) کی تعلیمی اسناد کو بھی ہدف بناتے ہوئے کہا کہ ایم ڈی کی ڈگری کے حوالے سے مارکیٹ میں گردش کرنے والی افواہوں اور شکوک و شبہات کی فوری وضاحت ضروری ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ حقیقت کو عوام کے سامنے لانے کے لیے اس مخصوص معاملے کی بھی فوری اور شفاف انکوائری ہونی چاہیے۔
سینیٹر ایمل ولی خان نے بینک کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی ساخت پر حیرت اور افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ انتہائی شرمناک بات ہے کہ صوبے کے نام پر قائم بینک کے بورڈ میں ایک بھی رکن کا تعلق خیبرپختونخوا سے نہیں ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا خیبر پختونخوا میں اہل، دیانتدار اور پیشہ ور افراد کی کمی ہے جو صوبے کے اپنے مالیاتی ادارے کے فیصلے باہر سے آنے والے افراد کے سپرد کر دیے گئے ہیں؟
انہوں نے مطالبہ کیا کہ بینک آف خیبر کے متعلقہ قانون میں فوری طور پر ترامیم کی جائیں اور قانونی طور پر یہ لازم قرار دیا جائے کہ بینک کے منیجنگ ڈائریکٹر یا چیف ایگزیکٹو آفیسر (CEO) کا تعلق لازمی طور پر خیبرپختونخوا سے ہو، جبکہ بورڈ آف ڈائریکٹرز میں بھی صوبے کی مؤثر نمائندگی کو تحفظ دیا جائے۔ انہوں نے تمام انٹرنل آڈٹ رپورٹس کو فوری منظر عام پر لانے اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والوں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کا مطالبہ کرتے ہوئے عزم دہرایا کہ خیبرپختونخوا کسی سیاسی جماعت کی جاگیر نہیں ہے، اور عوامی نیشنل پارٹی صوبے کے وسائل اور عوام کے حقوق کے تحفظ کے لیے ہر فورم پر اپنی آواز بلند کرتی رہے گی۔