حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ضم اضلاع میں ٹیکس یا پہلے حقوق؟ ایک بنیادی سوال Home / بلاگز /

ضم اضلاع میں ٹیکس یا پہلے حقوق؟ ایک بنیادی سوال

نثار الحق - 09/07/2026
ضم اضلاع میں ٹیکس یا پہلے حقوق؟ ایک بنیادی سوال

ضم شدہ اضلاع میں ٹیکس کے نفاذ کا معاملہ محض ایک مالی یا انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ آئینی، سماجی اور اخلاقی پہلوؤں کا حامل ایک اہم قومی مسئلہ بن چکا ہے۔ یہی مؤقف سابق سینیٹر اور جمعیت علماء اسلام کے امیر مولانا عبدالرشید نے اپنی حالیہ پریس کانفرنس میں اختیار کیا، جہاں انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کو نہ صرف غیر منصفانہ قرار دیا بلکہ اسے ایک ایسے خطے کے ساتھ ناانصافی بھی کہا جو گزشتہ کئی دہائیوں سے جنگ، بدامنی اور پسماندگی کی بھاری قیمت چکاتا آ رہا ہے۔

ان کا بنیادی سوال یہ تھا کہ کیا ریاست صرف شہریوں کی ذمہ داریاں یاد رکھے گی یا ان کے حقوق بھی پورے کرے گی؟ بلاشبہ ٹیکس دینا ہر شہری کی آئینی اور قانونی ذمہ داری ہے، مگر آئین ریاست پر بھی یہ ذمہ داری عائد کرتا ہے کہ وہ شہریوں کو جان و مال کا تحفظ، معیاری تعلیم، صحت، روزگار، انصاف اور ترقی کے مساوی مواقع فراہم کرے۔ اگر یہ بنیادی حقوق ہی میسر نہ ہوں تو صرف ٹیکس کی ادائیگی پر زور دینا انصاف کے تقاضوں سے ہم آہنگ نہیں دکھائی دیتا۔

مولانا عبدالرشید کا مؤقف ہے کہ ضم اضلاع آج بھی ملک کے ترقی یافتہ علاقوں کے برابر سہولیات سے محروم ہیں۔ یہاں صنعت کا فقدان ہے، سرمایہ کاری نہ ہونے کے برابر ہے، کاروباری سرگرمیاں محدود ہیں اور نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع انتہائی کم ہیں۔ ایسے حالات میں نئے ٹیکس نافذ کرنا مقامی معیشت پر مزید دباؤ ڈالنے کے مترادف ہوگا، جس کے نتیجے میں نہ صرف سرمایہ کاری متاثر ہوگی بلکہ تجارت اور صنعتی ترقی کی رفتار بھی مزید سست پڑ سکتی ہے۔

ان کا یہ استدلال بھی قابلِ غور ہے کہ بدامنی  سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے علاقوں کے لیے دنیا بھر میں خصوصی معاشی پیکجز، ٹیکس میں رعایتیں اور ترقیاتی منصوبے متعارف کرائے جاتے ہیں تاکہ وہ دوبارہ اپنے پاؤں پر کھڑے ہو سکیں۔ اگر ضم اضلاع بھی کئی دہائیوں تک بدامنی  کا مرکز رہے ہیں تو ان کے لیے خصوصی رعایتوں کا مطالبہ غیر معمولی نہیں بلکہ ایک قابلِ بحث پالیسی سوال ہے۔

حکومت کا مؤقف اپنی جگہ اہم ہے کہ ضم اضلاع کے صوبے میں انضمام کے بعد یکساں قانونی اور مالیاتی نظام کا اطلاق ناگزیر ہے، اور قومی خزانے میں ہر شہری کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے۔ تاہم اس مؤقف کے ساتھ یہ سوال بھی اپنی جگہ موجود ہے کہ کیا ان علاقوں کو وہ بنیادی ڈھانچہ، معاشی مواقع اور عوامی خدمات فراہم کی جا چکی ہیں جو دوسرے شہروں کے شہریوں کو حاصل ہیں؟

اصل مسئلہ ٹیکس کی مخالفت نہیں بلکہ ترجیحات کا ہے۔ اگر پہلے بنیادی سہولیات، امن، روزگار، تعلیم، صحت اور سرمایہ کاری کا ماحول فراہم کیا جائے تو ٹیکس کی ادائیگی کو بھی عوام زیادہ آسانی سے قبول کریں گے۔ لیکن اگر عوام خود کو مسلسل محرومی، عدم تحفظ اور معاشی مشکلات میں گھرا محسوس کریں تو ایسے فیصلے ردعمل کو جنم دے سکتے ہیں۔

مولانا عبدالرشید نے اعلان کیا ہے کہ ان کی جماعت اور ضم اضلاع کے عوام اس فیصلے کے خلاف اپنی جدوجہد جاری رکھیں گے۔ ان کے مطابق یہ کسی ایک سیاسی جماعت یا طبقے کا نہیں بلکہ پورے خطے کے مستقبل کا معاملہ ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ ضم اضلاع کے عوام کو ریاست کے ساتھ اپنے تعلق میں صرف ذمہ داریوں کا احساس نہیں بلکہ حقوق کا یقین بھی درکار ہے۔ پائیدار امن، مضبوط معیشت اور قومی یکجہتی اسی وقت ممکن ہے جب آئین کے دونوں پہلو، یعنی شہریوں کی ذمہ داریاں اور ریاست کی ذمہ داریاں، یکساں طور پر نبھائی جائیں۔ یہی توازن اعتماد پیدا کرتا ہے، اور یہی اعتماد ترقی کی بنیاد بنتا ہے۔