حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
گوادر بندرگاہ پر 40 سال بعد بنکرنگ جاری، پاکستان نے پہلی بار بحری جہاز کو سمندری ایندھن فراہم کر دیا Home / پاکستان /

گوادر بندرگاہ پر 40 سال بعد بنکرنگ جاری، پاکستان نے پہلی بار بحری جہاز کو سمندری ایندھن فراہم کر دیا

ایڈیٹر - 14/07/2026
گوادر بندرگاہ پر  40 سال بعد بنکرنگ جاری، پاکستان نے پہلی بار بحری جہاز کو سمندری ایندھن فراہم کر دیا

ویب ڈیسک: پاکستان نے بحری تجارت کے شعبے میں ایک اہم سنگِ میل عبور کر لیا ہے، جہاں گوادر بندرگاہ پر پہلی مرتبہ تجارتی بحری جہاز کو بنکرنگ کی سہولت فراہم کر دی گئی ہے۔ اس کامیاب آپریشن کے بعد پاکستان اپنی تینوں بڑی تجارتی بندرگاہوں سے بین الاقوامی معیار کے مطابق بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کے قابل ہو گیا ہے۔

حکام کے مطابق گوادر پورٹ پر ہونے والے اس تاریخی آپریشن کے دوران غیرملکی ایل این جی جہاز "ایل این جی اینوگو" کو عالمی میری ٹائم معیار کے مطابق تیار کردہ کم سلفر والے بحری ایندھن کی فراہمی کی گئی۔ جہاز کو مجموعی طور پر 2500 میٹرک ٹن ویری لو سلفر فیول آئل فراہم کیا گیا۔

یہ بحری ایندھن مقامی آئل ریفائنری "سنرجیکو پی کے لمیٹڈ" میں تیار کیا گیا، جبکہ ایندھن کی منتقلی کا عمل عالمی توانائی کمپنی "وٹول بنکرز" نے اپنی بنکرنگ بارج "میرین اِسٹا" کے ذریعے نیشنل لاجسٹکس کارپوریشن کے تعاون سے مکمل کیا۔

اس پیش رفت کے بعد پاکستان نے اپنی کراچی، پورٹ قاسم اور گوادر بندرگاہوں پر بحری جہازوں کو ایندھن فراہم کرنے کے لیے ایک مربوط اور عالمی معیار کا نظام فعال کر لیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ قومی میرین بنکرنگ نظام بین الاقوامی ضوابط کے مطابق کام کر رہا ہے، جبکہ پاکستان سنگل ونڈو نظام کے تحت الیکٹرانک کسٹمز اور میری ٹائم بنکرنگ قوانین کے مطابق جہازوں کو سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

گوادر بندرگاہ پر بنکرنگ آپریشن کا آغاز پاکستان کی بحری تجارت کے دائرہ کار میں توسیع کے حوالے سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے۔ اس سے قبل یہ سہولت محدود پیمانے پر کراچی اور پورٹ قاسم تک موجود تھی، تاہم اب گوادر بھی بین الاقوامی بحری ایندھن فراہمی کے نیٹ ورک کا حصہ بن گیا ہے۔

ماہرین کے مطابق اس اقدام سے پاکستان علاقائی بحری تجارت میں اپنی پوزیشن مزید مضبوط بنا سکے گا اور بحری جہازوں کو ایندھن کی فراہمی کے لیے خطے کے بڑے مراکز کے متبادل کے طور پر سامنے آ سکتا ہے۔