اے این پی کی زیر اہتمام مالاکنڈ ڈویژن میں ٹیکس نفاذ کے خلاف لویہ جرگہ کا مشترکہ اعلامیہ 1. لویہ جرگہ مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا میں ٹیکسوں کے نفاذ کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتا ہے 2. مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا میں ٹیکس نفاذ کا فیصلہ فوری طور پر واپس لیا جائے 3. مالاکنڈ ڈویژن میں 2024 سے نافذ العمل سیلز ٹیکس کا بھی خاتمہ کیا جائے اور خیبر پختونخوا سیلز ٹیکس آن سروسز ریگولیشن 2024 میں کی جانے والی ترمیم کو واپس لیا جائے 4.مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا دہشت گردی، سیلابوں اور دیگر قدرتی آفات سے سب سے زیادہ متاثرہ خطے رہے ہیں، جہاں عوام نے بھاری جانی و مالی نقصانات، بے گھری اور معاشی تباہی کا سامنا کیا۔ ان حالات نے سیاحت، زراعت، چھوٹے کاروبار اور مقامی تجارت کو بری طرح متاثر کیا ہے، لہٰذا نئے ٹیکسوں کا نفاذ متاثرہ عوام پر ناقابلِ برداشت معاشی بوجھ ہوگا۔ 5. مالاکنڈ ڈویژن ملک کو معدنی وسائل، جنگلات اور دیگر قدرتی وسائل کی صورت میں بے شمار وسائل فراہم کرتا ہے، مگر مقامی آبادی آج بھی بنیادی سہولیات، روزگار، صحت، تعلیم اور ترقیاتی منصوبوں سے محروم ہے۔ آئین میں موجود وسائل کی منصفانہ تقسیم کے اصول کے مطابق مالاکنڈ ڈویژن کے قدرتی وسائل سے حاصل ہونے والی آمدن میں سب سے پہلا حق مقامی آبادی کا تسلیم کیا جائے اور اس آمدن کا خاطر خواہ حصہ مقامی ترقی، روزگار اور بنیادی سہولیات پر خرچ کیا جائے۔ 6. ضم اضلاع میں پیدا ہونے والی معدنیات کی پیداوار سے حاصل ہونے والی آمدن کا 60 فیصد ان اضلاع کے عوام پر لگایا جائے۔ 7. ملاکنڈ ڈویژن میں 7 ہائیڈل پاور پراجیکٹ موجود ہیں جو کہ خاطر خواہ بجلی پیدا کر کی نیشنل گریڈ کو دیتے ہیں۔ بجلی کی اس پیداوار سے مالاکنڈ ڈویژن کو اس کی ضرورت کے مطابق بجلی کی فراہمی یقینی بنائی جائے جس قیمت پر نیشنل گریڈ کو فروخت کی جاتی ہے۔ 8.لویہ جرگہ وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی منصفانہ تقسیم، این ایف سی ایوارڈ کے بروقت اجراء، اور صوبوں کے آئینی مالی حقوق کی مکمل ادائیگی کا مطالبہ کرتا ہے 9. بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور آئی ایم ایف کی شرائط پورے کرنے کیلئے مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کے عوام کو قربانی کا بکرا نہ بنایا جائے۔ 10.مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کو حاصل ٹیکس استثنیٰ کو برقرار رکھا جائے اور اس استثنیٰ کے ثمرات حقیقی معنوں میں عوام تک منتقل کیے جائیں 11. مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع سے متعلق کسی بھی آئینی، مالی یا انتظامی فیصلے سے قبل مقامی منتخب نمائندوں، سیاسی جماعتوں، تاجروں، وکلاء اور سول سوسائٹی سے بامعنی مشاورت کو آئینی تقاضے کے طور پر تسلیم کیا جائے۔ 12. مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع میں سیاحت کے فروغ، تباہ حال انفراسٹرکچر کی بحالی، شاہراہوں، پلوں، سیاحتی مقامات، مواصلاتی نظام اور دیگر بنیادی سہولیات کی بہتری کے لیے خصوصی ترقیاتی پیکیج کا فوری اعلان کرے۔ 13. مالاکنڈ ڈویژن اور سابق فاٹا کے تمام اضلاع کے لیے خصوصی ترقیاتی گرانٹس، نوجوانوں کے لیے روزگار کے مواقع، کاروباری آسانیاں، صنعتی مراعات اور سرمایہ کاری کے خصوصی منصوبے متعارف کرائے جائیں تاکہ خطے کو پائیدار معاشی ترقی کی راہ پر گامزن کیا جا سکے۔ 14. مالاکنڈ ڈویژن اور ضم اضلاع کے عوام کے آئینی، قانونی اور معاشی حقوق کے تحفظ کے لیے تمام جمہوری، آئینی اور پرامن ذرائع اختیار کیے جائیں گے، اور اس مقصد کے لیے تمام سیاسی، سماجی اور عوامی قوتوں کے درمیان اتحاد و یکجہتی کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ 15.عوام پر نئے معاشی بوجھ مسلط کرنے کے بجائے حکومت کی اولین ترجیح دہشت گردی سے متاثرہ علاقوں کی بحالی، عوام کی معاشی بحالی، سیاحت کے فروغ، بنیادی ڈھانچے کی تعمیرِ نو اور قدرتی وسائل پر مقامی آبادی کے حق کو یقینی بنانا ہونی چاہیے۔ 16. عوام کی مرضی کے خلاف مسلط کیا گیا ہر فیصلہ مسترد ہوگا، اور اس کے خلاف بھرپور عوامی، جمہوری اور آئینی مزاحمت کی جائے گی۔