حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اسلام آباد: عالمی ادارے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کی تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں 100ویں نمبر پر آ گیا ہے Home / پاکستان /

اسلام آباد: عالمی ادارے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کی تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں 100ویں نمبر پر آ گیا ہے

ایڈیٹر - 04/07/2026
اسلام  آباد: عالمی ادارے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کی تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں 100ویں نمبر پر آ گیا ہے

اسلام آباد: عالمی ادارے ہینلے پاسپورٹ انڈیکس 2026 کی تازہ ترین درجہ بندی کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ دنیا بھر میں 100ویں نمبر پر آ گیا ہے، جبکہ پاکستانی شہری اب مجموعی طور پر 30 ممالک میں ویزا فری، ویزا آن ارائیول یا الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) کے ذریعے سفر کر سکتے ہیں۔

تازہ انڈیکس کے مطابق پاکستانی پاسپورٹ رکھنے والے افراد 11 ممالک میں بغیر ویزا سفر کر سکتے ہیں۔ ان ممالک میں بارباڈوس، کُک آئی لینڈز، ڈومینیکا، ہیٹی، مائیکرونیشیا، مونٹسیرات، نیوئے، سینٹ ونسنٹ اینڈ دی گریناڈائنز، ٹرینیڈاڈ اینڈ ٹوباگو، وانواتو اور گیمبیا شامل ہیں۔

اسی طرح 16 ممالک ایسے ہیں جہاں پاکستانی شہری پہنچنے پر ویزا (Visa on Arrival) حاصل کر سکتے ہیں۔ ان میں بولیویا، برونڈی، کمبوڈیا، کیپ وردے، کوموروس، گنی بساؤ، مڈغاسکر، مالدیپ، موریطانیہ، موزمبیق، نیپال، پلاؤ، ساموا، سیشلز، تیمور لیستے اور تووالو شامل ہیں۔

علاوہ ازیں تین ممالک، کینیا، سری لنکا اور قطر، پاکستانی شہریوں کے لیے الیکٹرانک ٹریول اتھارائزیشن (ETA) کی سہولت فراہم کرتے ہیں، جس کے تحت سفر سے قبل آن لائن منظوری حاصل کرنا ضروری ہوتی ہے۔

ہینلے پاسپورٹ انڈیکس کے مطابق اگرچہ پاکستان کی درجہ بندی رواں سال کے آغاز میں 97ویں نمبر سے کم ہو کر 100ویں نمبر پر آ گئی ہے، تاہم یہ 2025 کی 103ویں پوزیشن کے مقابلے میں مجموعی طور پر بہتر پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ پاکستان نے بین الاقوامی سول ایوی ایشن آرگنائزیشن (ICAO) کے معیار کے مطابق بائیومیٹرک ای پاسپورٹس کے  اجرا کو مزید وسعت دے دی ہے۔ اس اقدام کا مقصد سفری دستاویزات کی سکیورٹی بہتر بنانا، شناخت کی مؤثر تصدیق کو یقینی بنانا اور مستقبل میں بین الاقوامی سفری معاہدوں کے لیے راہ ہموار کرنا ہے۔

تاہم ماہرین کے مطابق مختلف ممالک کی ویزا اور امیگریشن پالیسیاں وقتاً فوقتاً تبدیل ہوتی رہتی ہیں، اس لیے بیرون ملک سفر سے قبل متعلقہ ملک کے سفارت خانے یا سرکاری امیگریشن حکام سے تازہ ترین سفری شرائط کی تصدیق کرنا ضروری ہے۔