پشاور ہائی کورٹ نے جنوبی وزیرستان (اپر و لوئر) کے لیے ایم بی بی ایس اور بی ڈی ایس کی نشستوں سے متعلق صوبائی حکومت کی پرانی تقسیمی پالیسی کو غیر تسلی بخش قرار دیتے ہوئے نئی، منصفانہ اور غیر امتیازی پالیسی بنانے کی ہدایت کر دی۔ عدالت نے حکم دیا کہ تمام متعلقہ اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت کے بعد نظرثانی شدہ پالیسی آئندہ تعلیمی سیشن سے قبل کابینہ سے منظور کرائی جائے اور اسے آئینی اصولوں اور مساوات کے تقاضوں کے مطابق بنایا جائے تاکہ تمام ضم شدہ اضلاع کے ساتھ انصاف ہو سکے۔ عدالت نے قرار دیا کہ اگرچہ پالیسی سازی حکومت کا اختیار ہے، تاہم جب کوئی پالیسی بادی النظر میں امتیازی ہو تو عدالت مداخلت کر سکتی ہے۔