پشاور پولیس کی بڑی کارروائی؛ 70 افغان شہری حراست میں لے لیے گئے، مقامی ذرائع کی جانب سے 10 جولائی تک ملک چھوڑنے کا مشورہ
پشاور:
صوبائی دارالحکومت پشاور میں سیکیورٹی اور انتظامی اقدامات کے تحت غیر قانونی طور پر مقیم غیر ملکیوں کے خلاف کریک ڈاؤن تیز کر دیا گیا ہے۔ پشاور پولیس نے آج شہر کے مختلف حصوں میں گرینڈ سرچ آپریشن کرتے ہوئے 70 افغان شہریوں کو حراست میں لے لیا ہے۔ کارروائی کے دوران ان غیر ملکیوں کو قانون کے خلاف ورزی کرتے ہوئے کرائے پر مکانات فراہم کرنے والے متعدد مقامی افراد کو بھی حراست میں لیا گیا، تاہم بعد میں انہیں سخت قانونی انتباہ جاری کرتے ہوئے رہا کر دیا گیا۔
پولیس حکام نے مکان مالکان کو سخت ہدایات جاری کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وہ مروجہ قانون اور کرایہ داری ایکٹ کے مطابق کسی بھی غیر ملکی شہری کو متعلقہ دستاویزات اور سرکاری اجازت نامے کے بغیر اپنا مکان، دکان یا کوئی بھی جائیداد کرائے پر ہرگز نہ دیں۔ پولیس کے مطابق، کرایہ داری قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مستقبل میں سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی اور اس سلسلے میں کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔
دوسری جانب، مقامی ذرائع اور تاجر برادری کے مطابق شہر کے مختلف بازاروں اور تجارتی مراکز میں افغان شہریوں کے کاروباری ٹھکانوں اور رہائش گاہوں کے خلاف کارروائیاں انتہائی تیز کر دی گئی ہیں۔ ان بدلتے ہوئے حالات اور سخت انتظامی دباؤ کے پیشِ نظر، پشاور میں مقیم افغان شہریوں کو مقامی حلقوں کی جانب سے مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ کسی بھی ممکنہ قانونی گرفت اور پریشانی سے بچنے کے لیے 10 جولائی تک پاکستان سے اپنے آبائی ملک منتقل ہو جائیں۔ تہران اور خطے کی بدلتی صورتحال کے بعد صوبے بھر میں سیکیورٹی الرٹ ہائی ہے۔