ملاکنڈ اور فاٹا میں ٹیکس نفاذ کا فیصلہ آئینی وعدوں سے انحراف ہے، اے این پی کا ملک گیر احتجاجی تحریک کا اعلان
پشاور:
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) کے مرکزی صدر اور سینئر سیاستدان ایمل ولی خان نے ملاکنڈ ڈویژن اور فاٹا کے اضلاع میں وفاقی حکومت کی جانب سے ٹیکسز کے نفاذ کے فیصلے کو یکسر مسترد کرتے ہوئے اس کے خلاف ایک باقاعدہ اور بھرپور احتجاجی تحریک شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ پشاور سے جاری کردہ خصوصی اعلامیے کے مطابق، اے این پی کے مرکزی صدر نے وفاق کے اس اقدام کو مقامی عوام کے ساتھ کیے گئے تاریخی اور آئینی وعدوں کی صریح خلاف ورزی قرار دیا ہے۔
ایمل ولی خان نے وفاقی حکومت کے فیصلے کی شدید مخالفت کرتے ہوئے تزویراتی موقف اختیار کیا کہ جس ریاست میں خود حکومت اپنے عوام سے کیے گئے تاریخی معاہدوں اور وعدوں سے منحرف ہو جائے، وہاں عوام سے ریاست کے لیے وفاداری، اعتماد اور احترام کی توقع کیسے کی جا سکتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ دنیا بھر میں ریاستیں اپنے شہریوں کے ساتھ آئینی، قانونی اور سیاسی معاہدوں کے بل بوتے پر ہی مضبوط ہوتی ہیں، لیکن جب خود ریاست اپنے وعدوں سے پھر جائے تو عوام کے دلوں میں ریاستی اداروں کے خلاف بداعتمادی اور بے یقینی پیدا ہونا ایک فطری عمل ہے۔
عوامی نیشنل پارٹی کے صدر کا مزید کہنا تھا کہ ملاکنڈ ڈویژن اور فاٹا کے عوام پر ٹیکسوں کا نفاذ صرف ایک معاشی فیصلہ نہیں ہے، بلکہ یہ ریاست اور عوام کے مابین موجود مروجہ اعتماد کو مجروح کرنے کی ایک دانستہ کوشش ہے جسے عوامی نیشنل پارٹی کسی صورت قبول نہیں کرے گی۔ انہوں نے اے این پی کی صوبائی تنظیم کو ہنگامی ہدایات جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ خیبر پختونخوا اور ملاکنڈ ڈویژن کی تمام سیاسی جماعتوں، وکلاء، تاجروں، سول سوسائٹی، نوجوانوں اور ہر مکتبہ فکر سے فوری رابطہ کر کے اس عوام دشمن فیصلے کے خلاف بھرپور تحریک کی تیاری شروع کی جائے۔ اے این پی اس غیر منصفانہ فیصلے کی واپسی تک سیاسی، عوامی اور جمہوری جدوجہد جاری رکھے گی۔