پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں حکومت کی غفلت کا نتیجہ ہیں، بھارت اور افغانستان میں نرخ اب بھی کم ہیں؛ میاں افتخار حسین
پشاور:
عوامی نیشنل پارٹی (اے این پی) خیبر پختونخوا کے صدر میاں افتخار حسین نے ملک میں پیٹرولیم مصنوعات کی اونچی قیمتوں پر وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اپنے ایک خصوصی اور سخت بیان میں اے این پی کے صوبائی صدر نے کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان جاری کشیدگی کا بہانہ بنا کر پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو جس سطح پر برقرار رکھا گیا ہے، وہ براہِ راست حکومتی غفلت اور نااہلی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ انہوں نے حالیہ معمولی کمی کو اونٹ کے منہ میں زیرے کے مترادف قرار دیتے ہوئے یکسر مسترد کر دیا۔
میاں افتخار حسین نے خطے کے دیگر ممالک کا موازنہ پیش کرتے ہوئے تزویراتی سوال اٹھایا کہ بھارت، بنگلہ دیش، افغانستان اور سری لنکا جیسے معاشی چیلنجز کا سامنا کرنے والے ممالک میں آج بھی پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں پاکستان کے مقابلے میں نمایاں طور پر کم ہیں، تو پھر پاکستان میں ان نرخوں کو آسمان پر رکھنے کا کیا جواز ہے۔ انہوں نے کہا کہ اب جب مشرقِ وسطیٰ اور خطے کے حالات بتدریج سدھر رہے ہیں، تو حکومت کی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ قیمتوں میں اسی تیزی کے ساتھ بڑی کمی کرے جس تیزی کے ساتھ انہیں بڑھایا گیا تھا۔
اپنے بیان کے آخر میں عوامی نیشنل پارٹی کے صدر نے وفاقی معاشی پالیسیوں پر عدم اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت پبلک ریلیف کے بجائے صرف بڑی تیل کمپنیوں کے مفادات کا تحفظ کر رہی ہے۔ انہوں نے سخت الفاظ کا استعمال کرتے ہوئے کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کو غریب عوام سے 'پیسے بنانے کی مشین' بنا دیا گیا ہے، جس کی جتنی بھی مذمت کی جائے وہ کم ہے۔ میاں افتخار حسین نے مطالبہ کیا کہ حکومت فوری طور پر لیوی اور دیگر ٹیکسز کم کر کے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔