لوئر دیر کے علاقے تیمرگرہ میں ایک افسوسناک ٹریفک حادثے اور اس کے بعد ہسپتال انتظامیہ کی مبینہ غفلت کے باعث ایک شخص کی ہلاکت پر شدید عوامی احتجاج شروع ہو گیا ہے۔ مظاہرین نے صوبائی انتظامیہ اور محکمہ صحت کے خلاف نعرے بازی کرتے ہوئے مرکزی شاہراہ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا ہے۔
مقامی پولیس کے مطابق، تیمرگرہ سبزی منڈی کے قریب ٹی ایم اے کی سیمنٹڈ بلاکس سے بھری ایک تیز رفتار ٹرالی بے قابو ہو کر گہری کھائی میں جا گری۔ اس حادثے کی زد میں آ کر ایک قریبی گاڑی بھی بری طرح کچلی گئی، جبکہ ایک شہری شدید زخمی ہو گیا۔ زخمی شخص کو فوری طور پر طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کیا گیا، جہاں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دورانِ علاج دم توڑ گیا۔
نوجوان کی ہلاکت کی خبر پھیلتے ہی لواحقین اور مقامی افراد کی بڑی تعداد ہسپتال کے باہر جمع ہو گئی اور لاش سڑک پر رکھ کر احتجاج شروع کر دیا۔ مظاہرین کا مؤقف ہے کہ زخمی شخص کی موت ہسپتال کے ڈاکٹروں اور عملے کی مبینہ غفلت اور بروقت مناسب طبی امداد نہ ملنے کے باعث ہوئی ہے۔ احتجاج کی شدت کو دیکھتے ہوئے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق امیدوار برائے این اے-9 عالم زیب ایڈووکیٹ نے بھی مظاہرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے دھرنے میں شرکت کی۔ مظاہرین نے مین چترال-دیر شاہراہ کو ہر قسم کی آمد و رفت کے لیے مکمل طور پر بند کر دیا ہے، جس کے باعث سڑک کے دونوں جانب گاڑیوں کی طویل قطاریں لگ گئی ہیں اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔