امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جاری سفارتی مذاکرات کے حوالے سے انتہائی سخت اور دو ٹوک مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کے ساتھ طے پانے والی مفاہمتی یادداشت ابھی حتمی شکل اختیار نہیں کر سکی۔ انہوں نے واضح الفاظ میں خبردار کیا کہ اگر حتمی معاہدہ واشنگٹن کے لیے قابلِ قبول نہ ہوا، تو ریاستہائے متحدہ امریکا دوبارہ فوجی کارروائی کا آپشن استعمال کرنے سے گریز نہیں کرے گا۔
تفصیلات کے مطابق فرانس میں منعقدہ جی سیون (G7) سربراہی اجلاس کے موقع پر مصری صدر عبدالفتاح السیسی سے ایک اہم ملاقات کے دوران میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی صدر نے ایران کی جوہری صف بندی پر کھل کر بات کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا تھا کہ امریکا اپنے اس اصولی مؤقف پر قائم ہے کہ ایران کسی بھی صورت جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا اور اسی تناظر میں تہران کے ساتھ ایک اہم عبوری ڈیل طے پائی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس مجوزہ معاہدے کے مکمل نفاذ کے بعد بحری تجارت کے لیے انتہائی اہم ترین تجارتی گزرگاہ 'آبنائے ہرمز' (Strait of Hormuz) بین الاقوامی بحری آمدورفت کے لیے مکمل طور پر کھول دی جائے گی۔
سرمایہ کاری کے حوالے سے گردش کرنے والی خبروں کی تردید کرتے ہوئے امریکی صدر نے واضح کیا کہ امریکا خود ایران کے اندر کسی قسم کی سرمایہ کاری نہیں کرے گا۔ انہوں نے ان میڈیا رپورٹس کو یکسر مسترد کر دیا جن میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ اس سفارتی معاہدے کے تحت ایران میں 300 ارب ڈالر کی بھاری سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ پابندیوں کے حساس ترین معاملے پر گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے دو ٹوک الفاظ میں کہا کہ موجودہ مفاہمتی یادداشت کے اندر فوری طور پر ایرانی پابندیوں میں کسی قسم کی نرمی شامل نہیں کی گئی ہے، اور تہران پر عائد معاشی و سیاسی پابندیوں کو ہٹانے یا ان میں نرمی لانے کے پیچیدہ معاملے پر بات چیت معاہدے کے اگلے مراحل میں کی جائے گی۔