تہران: ایرانی مسلح افواج کے خاتم الانبیاء سینٹرل ہیڈکوارٹر نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر جنوبی لبنان میں فوجی کارروائیاں بند نہ کی گئیں تو اسے ایران کی جانب سے سخت ردعمل کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
ایرانی فوج کی جانب سے جاری بیان میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ گزشتہ دو روز کے دوران اسرائیلی افواج نے جنوبی لبنان میں جنگ بندی معاہدے کی 84 مرتبہ خلاف ورزی کی ہے۔
بیان کے مطابق امریکی صدر کی جانب سے خطے میں جنگ کے خاتمے اور کشیدگی میں کمی کے اعلان کے باوجود اسرائیلی فوج جنوبی لبنان میں اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہے، جس سے خطے میں امن کی کوششوں کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
خاتم الانبیاء ہیڈکوارٹر نے اپنے بیان میں کہا کہ ایران خطے کی صورتحال پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے اور اگر اسرائیل نے جنگ بندی کی خلاف ورزیوں کا سلسلہ جاری رکھا تو اسے اس کے نتائج بھگتنا ہوں گے۔
ایرانی فوج نے مزید کہا کہ اس کی مسلح افواج ہر قسم کی صورتحال سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں اور خطے میں امن و استحکام کو خطرے میں ڈالنے والی کسی بھی کارروائی پر مناسب ردعمل دینے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔
دوسری جانب اسرائیل کی جانب سے ایرانی الزامات اور جنگ بندی کی مبینہ خلاف ورزیوں پر تاحال کوئی باضابطہ ردعمل سامنے نہیں آیا۔
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران کے تازہ بیان نے ایک بار پھر مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی میں اضافے کے خدشات کو جنم دے دیا ہے، جبکہ عالمی برادری خطے میں جنگ بندی برقرار رکھنے اور سفارتی حل کی کوششوں پر زور دے رہی ہے۔