تہران: ایران کی پاسدارانِ انقلاب کی قدس فورس کے کمانڈر جنرل اسماعیل قانی نے کہا ہے کہ حالیہ علاقائی تنازع نے امریکا کی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے اور اسرائیلی حکومت کے زوال کے عمل کو مزید تیز کر دیا ہے۔
ایرانی میڈیا کو دیے گئے انٹرویو میں جنرل اسماعیل قانی نے دعویٰ کیا کہ شدید فوجی دباؤ اور وسیع پیمانے پر تباہی کے باوجود مزاحمتی محاذ سے وابستہ کسی بھی گروہ نے میدان نہیں چھوڑا اور تمام اتحادی قوتیں اپنی پوزیشن پر قائم رہیں۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمتی گروہوں کی مسلسل سرگرمی اور موجودگی نے ایران کے مخالفین کو تشویش میں مبتلا کر دیا ہے، جبکہ خطے میں طاقت کا توازن بھی تبدیل ہو رہا ہے۔
قدس فورس کے سربراہ کے مطابق خطے میں موجود ایران نواز گروہوں نے تہران کی حمایت میں خود فیصلہ کرتے ہوئے امریکا کے خلاف محاذ کھولا اور انہیں ایران کی جانب سے براہِ راست کوئی ہدایات جاری نہیں کی گئیں۔
اسماعیل قانی نے لبنان کی مزاحمتی تنظیم حزب اللہ کے حوالے سے کہا کہ اس تنظیم کے خاتمے یا اس کی طاقت میں کمی کے دعوے حقیقت کے برعکس ہیں۔ ان کے بقول حزب اللہ لبنانی معاشرے میں گہری جڑیں رکھتی ہے اور اسے ختم کرنا ممکن نہیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ حزب اللہ کی حقیقی عسکری صلاحیتیں عوامی سطح پر نظر آنے والی قوت سے کہیں زیادہ ہیں اور ماضی میں سامنے آنے والی اس کی طاقت دراصل اس کی مکمل صلاحیتوں کا صرف ایک حصہ تھی۔
ایرانی جنرل نے باب المندب آبنائے کو ایران کے اتحادی گروہوں کے لیے ایک اہم اسٹریٹجک برتری قرار دیتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ کشیدگی کے دوران امریکی جنگی جہازوں نے اس سمندری راستے سے گزرنے سے گریز کیا۔
انہوں نے حالیہ سفارتی کوششوں میں شریک ایرانی مذاکرات کاروں کی کارکردگی کو بھی سراہا اور کہا کہ عسکری اور سفارتی محاذوں پر سرگرم عناصر ایک ہی مقصد کے حصول کے لیے مربوط انداز میں کام کر رہے ہیں۔
جنرل اسماعیل قانی کے مطابق حالیہ تنازع کے نتائج نے نہ صرف امریکا کی عالمی ساکھ کو متاثر کیا بلکہ اسرائیل کو بھی سیاسی اور تزویراتی سطح پر مزید مشکلات سے دوچار کر دیا ہے۔