تہران/واشنگٹن: ایران نے دعویٰ کیا ہے کہ امریکا نے ایرانی بندرگاہوں اور تیل بردار جہازوں پر عائد بحری پابندیاں ختم کر دی ہیں، جس کے بعد ایرانی خام تیل سے لدے کئی بڑے ٹینکرز دوبارہ بین الاقوامی سمندری راستوں پر روانہ ہو گئے ہیں۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ ماجد تخت روانچی نے ایک بیان میں کہا کہ امریکی بحری نگرانی اور محاصرہ ختم ہونے کے بعد ایرانی بندرگاہوں سے تیل بردار جہازوں کی نقل و حرکت بحال ہو چکی ہے۔
جہازوں کی آمد و رفت پر نظر رکھنے والے اداروں کے مطابق تقریباً 20 لاکھ بیرل خام تیل سے لدا ایک بڑا ایرانی ٹینکر متنازع بحری علاقے سے گزر چکا ہے، جبکہ درجنوں دیگر ایرانی جہاز بھی سمندری راستوں کی جانب پیش قدمی کر رہے ہیں۔
رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ گزشتہ دو ماہ کے دوران پہلی مرتبہ کم از کم تین ایرانی ٹینکرز، جو مجموعی طور پر تقریباً 50 لاکھ بیرل خام تیل لے جا رہے تھے، آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔
سمندری ڈیٹا فراہم کرنے والے اداروں کے مطابق ایرانی قومی کمپنی سے منسلک دو بڑے ٹینکرز، جن پر امریکی پابندیاں عائد تھیں، بھی دوبارہ بین الاقوامی شپنگ روٹس پر سرگرم ہو گئے ہیں۔ ان جہازوں پر مجموعی طور پر 38 لاکھ بیرل خام تیل لدا ہوا ہے، جبکہ ایک تیسرا ٹینکر مزید 10 لاکھ بیرل تیل لے کر روانہ ہوا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ان پیش رفتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران کے ساتھ تجارتی سرگرمیاں دوبارہ بحال ہونے کی راہ ہموار ہو رہی ہے اور دیگر تیل بردار کمپنیاں بھی اپنی سرگرمیاں بحال کرنے پر غور کر رہی ہیں۔
دوسری جانب عالمی شپنگ اور انشورنس انڈسٹری ابھی مکمل طور پر مطمئن دکھائی نہیں دیتی۔ کئی جہاز مالکان اور انشورنس کمپنیاں خطے کی سیکیورٹی صورتحال اور مجوزہ معاہدے کی حتمی تفصیلات کے منتظر ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگر امریکا اور ایران کے درمیان طے پانے والا مجوزہ معاہدہ مکمل طور پر نافذ ہو جاتا ہے تو اس سے آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں کو بڑا فروغ مل سکتا ہے اور ایران کی تیل برآمدات پر عائد پابندیوں میں بھی نمایاں نرمی آنے کا امکان ہے۔
ادھر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک ویڈیو بیان میں دعویٰ کیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمدورفت معمول کے مطابق بحال رہے گی اور سمندری تجارت کو مزید سہولت فراہم کی جائے گی۔
ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر مجوزہ معاہدے پر دستخط ہو جاتے ہیں تو آئندہ چند ہفتوں کے دوران بڑی تعداد میں تیل بردار ٹینکرز خلیجی راستوں سے گزر سکتے ہیں، تاہم شپنگ انڈسٹری فی الحال محتاط حکمت عملی اختیار کیے ہوئے ہے اور حتمی پیش رفت کا انتظار کر رہی ہے۔