وزیر اطلاعات شفیع جان نے اپنے حالیہ ہیلی کاپٹر سفر پر اٹھنے والے سوالات اور تنقید کو یکسر مسترد کرتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے فضائی راستہ اختیار کر کے درحقیقت سرکاری خزانے کے اخراجات کو بچایا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ زمینی سفر کی صورت میں پیٹرولیم مصنوعات اور پروٹوکول کے گراں قدر اخراجات ہوسکے تھے، جن سے اب اجتناب کیا گیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے وزیر اطلاعات نے واضح کیا کہ مذکورہ فضائی سفر کے لیے ہیلی کاپٹر کی درخواست گورنر کی جانب سے دی گئی تھی، جو پہلے ہی سے طے شدہ سفر پر روانہ ہو رہے تھے۔ شفیع جان نے بتایا کہ وہ گورنر ہاؤس سے گورنر کے ہمراہ روانہ ہوئے اور اسی راستے سے واپس تشریف لائے، جس کی وجہ سے حکومت پر کوئی اضافی مالی بوجھ نہیں پڑا۔
اپنے موقف پر اصرار کرتے ہوئے صوبائی وزیر نے چیلنج کیا کہ اگر ان کے اس سفر کی وجہ سے قومی خزانے کا ایک روپیہ بھی اضافی خرچ ہوا ہو تو وہ اس کی تمام تر ذمہ داری قبول کرنے کے لیے تیار ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پروٹوکول کلچر کو کم کرنا اور عوامی وسائل کا درست استعمال موجودہ انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔ اس وضاحتی بیان کے بعد سیاسی حلقوں اور سوشل میڈیا پر نئی بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔