مکہ مکرمہ : سعودی عرب میں ہجری سال کے پہلے مہینے محرم الحرام کا چاند نظر آتے ہی مسجد الحرام میں غلافِ کعبہ (کسوہ) کی تبدیلی کی انتہائی روح پرور اور ایمان افروز تقریب منعقد ہوئی۔ حرمین شریفین کی انتظامیہ اور غلافِ کعبہ کمپلیکس کے ماہرین نے نہایت عقیدت اور احترام کے ساتھ بیت اللہ کا پرانا غلاف اتار کر نیا غلافِ کعبہ چڑھایا۔ اس دلنشین اور تاریخی تقریب کو دیکھنے کے لیے دنیا بھر سے آئے ہوئے زائرین کی بڑی تعداد مسجد الحرام میں موجود رہی۔
سعودی میڈیا کے مطابق بیت اللہ کے اس نئے غلاف کی تیاری میں دنیا کا مہنگا ترین اور اعلیٰ ترین خام مال استعمال کیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق غلافِ کعبہ کی تیاری میں 825 کلو گرام خالص ریشم، 120 کلو گرام سونے کا پانی چڑھی ہوئی چاندی کی تاریں، 60 کلو گرام خالص چاندی اور 410 کلو گرام خام روئی استعمال ہوئی ہے۔ غلاف پر موجود قرآنی آیات اور نقوش کو انتہائی مہارت کے ساتھ سنہری اور روپہلی دھاگوں سے کڑھائی کر کے تیار کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سعودی عرب کی اعلیٰ قیادت کی منظوری کے بعد ہر سال نئے اسلامی سال کے آغاز یعنی یکم محرم الحرام پر پرانا غلاف اتار کر نیا غلاف "کسویٰ" تبدیل کیا جاتا ہے۔ یہ غلاف مکہ مکرمہ میں قائم شاہ عبدالعزیز کمپلیکس برائے غلافِ کعبہ میں سینکڑوں سعودی ماہرین اور کاریگروں کی شب و روز کی محنت سے تیار کیا جاتا ہے، جو اسلامی دنیا کے لیے عقیدت اور فنِ خطاطی کا ایک شاہکار مانا جاتا ہے۔