ریاستہائے متحدہ امریکہ اور اسلامی جمہوریہ ایران کے مابین حالیہ سفارتی معاہدے کے مثبت اثرات بین الاقوامی اور مقامی کرنسی مارکیٹوں پر نمودار ہونا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں ایرانی ریال کی قدر میں نمایاں اور ریکارڈ بہتری دیکھنے میں آئی ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، مقامی اوپن مارکیٹ میں محض ایک ہی روز کے دوران ایک کروڑ ایرانی ریال کی مالیت میں تقریباً 1,500 روپے کا زبردست اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس غیر معمولی تیزی کے بعد مارکیٹ میں ایک کروڑ ایرانی ریال کی قیمتِ فروخت بڑھ کر 4,000 روپے کی سطح تک پہنچ گئی ہے۔
کرنسی مارکیٹ کے بااعتماد ذرائع کا کہنا ہے کہ اس تاریخی پیش رفت کے بعد مارکیٹ میں ایرانی کرنسی کی طلب میں کئی گنا اضافہ ہو گیا ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے مطابق، معاہدے کے پہلے روز ہی مقامی مارکیٹ میں ریکارڈ 25 ارب روپے مالیت کے ایرانی ریال کی خرید و فروخت کی گئی، جب کہ آج دوسرے روز بھی ایرانی کرنسی کی طلب میں غیر معمولی اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔ ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے چیئرمین ملک بوستان نے اس صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن اور تہران کے درمیان طویل مدتی کشیدگی میں کمی اور کامیاب سفارت کاری کے باعث عالمی سطح پر ایرانی ریال پر سرمایہ کاروں کا اعتماد بحال ہو رہا ہے، جس کی وجہ سے اس کی قدر مسلسل مستحکم ہو رہی ہے۔
مالیاتی ماہرین اور معاشی تجزیہ کاروں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ اگر دونوں ممالک کے درمیان طے پانے والے اس معاہدے پر عمل درآمد کی پیش رفت اسی طرح برقرار رہی، تو آنے والے دنوں میں ایرانی ریال کی قدر میں مزید استحکام متوقع ہے۔ واضح رہے کہ مقامی فاریکس مارکیٹ میں اس وقت بڑے ٹریڈرز سمیت انفرادی اور چھوٹے سرمایہ کار بھی مستقبل قریب میں بھاری منافع حاصل کرنے کی امید پر بڑے پیمانے پر ایرانی ریال خرید رہے ہیں، جس کے باعث مارکیٹ میں ریال کی سپلائی پر دباؤ بڑھ گیا ہے۔