اسلام آباد : سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق نے ملک بھر میں غیرت کے نام پر قتل کے بڑھتے ہوئے لرزہ خیز واقعات اور خواتین کے خلاف جرائم کی شرح پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے چاروں صوبوں سے فوری اور تفصیلی رپورٹ طلب کر لی ہے۔ قائمہ کمیٹی کا اہم اجلاس سینیٹر ثمینہ زہری کی صدارت میں اسلام آباد میں منعقد ہوا، جس میں چاروں صوبوں کے اعلیٰ پولیس حکام نے خواتین کے خلاف جرائم، سزاؤں کی شرح اور درپیش چیلنجز پر تفصیلی برریفنگ دی۔ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے سینیٹر ثمینہ زہری نے گہرے افسوس کا اظہار کیا کہ ملک میں غیرت کے نام پر قتل کا سلسلہ تاحال جاری ہے اور ریاست اس ناسور کا مؤثر تدارک کرنے میں تاحال ناکام نظر آتی ہے۔
صوبائی پولیس حکام کی جانب سے پیش کیے گئے اعداد و شمار انتہائی ہولناک ہیں۔ کمیٹی کو بتایا گیا کہ صرف بلوچستان میں گزشتہ تین سال کے دوران غیرت کے نام پر 218 کیسز سامنے آئے، جن میں سے صرف ایک ضلع نصیر آباد میں 173 کیسز رپورٹ ہوئے جو کہ انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتا ہے۔ دوسری جانب، ایڈیشنل آئی جی پنجاب شہزادہ سلطان نے پنجاب صوبے کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے انکشاف کیا کہ پنجاب میں غیرت کے نام پر قتل کے 1127 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں، جبکہ گزشتہ 5 سالوں کے دوران 650 اہم کیسز میں سے صرف 192 ملزمان کو سزائیں سنائی جا سکی ہیں۔
کمیٹی نے سزاؤں کی اس کم شرح اور عدالتی و تفتیشی نظام کے سست روی پر سخت برہمی کا اظہار کیا۔ سینیٹر ثمینہ زہری نے زور دیا کہ جب تک ملزمان کو قانون کے مطابق سخت اور عبرتناک سزائیں نہیں دی جاتیں، تب تک خواتین کے خلاف ان جرائم کا خاتمہ ممکن نہیں۔ قائمہ کمیٹی نے چاروں صوبوں کے آئی جیز کو ہدایت کی ہے کہ وہ ان کیسز کی تفتیش کو جدید خطوط پر استوار کریں اور آئندہ اجلاس میں ملزمان کو سزا دلوانے کے حوالے سے کی گئی پیش رفت کی جامع رپورٹ جمع کروائیں۔