پشاور : خیبر پختونخوا چائلڈ لیبر سروے 2022 کی جاری کردہ حالیہ تحقیقاتی رپورٹ میں صوبے کے معاشی ڈھانچے، سماجی تفاوت اور بچوں کے بنیادی انسانی حقوق کے حوالے سے انتہائی تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں۔ اس سرکاری دستاویز کے مطابق صوبائی دارالحکومت پشاور کو خیبر پختونخوا کا امیر ترین اور ضلع تورغر کو صوبے کا سب سے غریب ترین ضلع قرار دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ضلع تورغر میں انتہائی غریب اور کمزور معاشی طبقے سے تعلق رکھنے والے گھرانوں کا تناسب صوبے بھر میں سب سے زیادہ یعنی 86.8 فیصد ریکارڈ کیا گیا ہے۔ اس کے برعکس، پشاور میں امیر ترین اور مستحکم معاشی درجے میں شامل گھرانوں کا تناسب 49.6 فیصد کے ساتھ سب سے اوپر پایا گیا ہے۔
اس اہم ترین سروے رپورٹ میں صوبے کے بچوں کی قانونی دستاویزات اور پیدائشی سرٹیفکیٹ (برتھ رجسٹریشن) کے حوالے سے بھی ایک سنگین بحران کی نشاندہی کی گئی ہے۔ اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ خیبر پختونخوا میں 5 سے 17 سال کی عمر کے صرف 43.8 فیصد بچوں کے پاس پیدائشی سرٹیفکیٹ موجود ہے، جس کا واضح مطلب یہ ہے کہ صوبے کے نصف سے زیادہ بچے اب بھی اس بنیادی اور قانونی دستاویز سے یکسر محروم ہیں۔ رپورٹ میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ شہری اور دیہی علاقوں کی نسبت سے یہ شرح انتہائی ناہموار ہے؛ جہاں شہری علاقوں کے امیر گھرانوں میں بچوں کی رجسٹریشن کی شرح 59.4 فیصد ہے، وہی دیہی اور غریب علاقوں کے پسماندہ گھرانوں میں یہ شرح گر کر محض 23.7 فیصد تک محدود رہ جاتی ہے۔
ماہرینِ معاشیات، قانون دانوں اور اطفال کے حقوق کے علمبرداروں نے ان اعداد و شمار پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ پیدائشی اندراج کی یہ انتہائی دھیمی شرح مستقبل قریب میں ان لاکھوں بچوں کے لیے تعلیم کے حصول، مناسب صحت کی سہولیات اور دیگر بنیادی شہری حقوق تک رسائی میں سب سے بڑی رکاوٹ بن جائے گی۔ انہوں نے صوبائی حکومت اور متعلقہ اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ نچلی سطح پر برتھ رجسٹریشن اور شناختی دستاویزات کے حصول کے عمل کو مزید آسان، فعال اور ڈیجیٹلائزڈ کیا جائے تاکہ خیبر پختونخوا کے ہر بچے کی قانونی شناخت اور روشن مستقبل کو یقینی بنایا جا سکے۔