اسلام آباد: وفاقی بجٹ کے معاملے پر حکمران اتحاد میں شامل بڑی سیاسی شراکت دار جماعت، پاکستان پیپلز پارٹی اور وفاقی حکومت کے درمیان جاری اختلافات تاحال دور نہیں ہو سکے ہیں۔ ذرائع کے مطابق بجٹ اعداد و شمار پر بڑھتے ہوئے تحفظات کے باعث پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے قومی اسمبلی کے جاری اجلاس میں وفاقی بجٹ پر ہونے والی بحث میں اپنی طے شدہ تقریر احتجاجاً ملتوی کر دی ہے، جس سے دارالحکومت کی سیاست میں اچانک گرما گرمی پیدا ہو گئی ہے۔
پیپلز پارٹی کے معتبر ذرائع کا کہنا ہے کہ پارٹی کے سینئر رہنما نوید قمر نے بجٹ کے تکنیکی امور اور پیش رفت پر چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کو ایک تفصیلی اور اہم بریفنگ دی۔ اس اعلیٰ سطحی بریفنگ کے دوران نوید قمر نے انکشاف کیا کہ بجٹ کی تیاری کے مراحل میں پیپلز پارٹی کے ساتھ مشاورت کے دوران جو تجاویز، معاشی فارمولے اور اعداد و شمار شیئر کیے گئے تھے، قومی اسمبلی کے ایوان میں پیش کیے جانے والے اصل بجٹ کی دستاویزات میں ان سے واضح اور نمایاں فرق موجود ہے، جسے پارٹی قیادت نظرانداز نہیں کر سکتی۔
ذرائع کے مطابق بجٹ دستاویزات میں سامنے آنے والے ان واضح تضادات پر پیپلز پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے شدید تشویش اور برہمی کا اظہار کیا ہے۔ پی پی پی نے اصولی فیصلہ کیا ہے کہ وہ ان تبدیلیوں پر وفاقی حکومت سے فوری اور باضابطہ وضاحت طلب کرے گی۔ اس تناظر میں پارٹی کی ایک اعلیٰ سطحی سیاسی و معاشی ماہرین پر مشتمل ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے، جو بہت جلد حکومتی معاشی ٹیم اور نمائندوں سے رابطہ کر کے تحفظات دور کرنے کا مطالبہ کرے گی۔ سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ اگر یہ اختلافات جلد حل نہ ہوئے تو بجٹ کی منظوری کا عمل متاثر ہو سکتا ہے۔