اسلام آباد: وفاقی حکومت کے نئے مالی سال کے بجٹ میں ٹیکس اقدامات کے باعث روزمرہ استعمال کی متعدد اشیاء کی قیمتوں میں نمایاں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، جس سے عوام پر مہنگائی کا مزید بوجھ پڑ سکتا ہے۔
فنانس بل میں تجویز کردہ اقدامات کے تحت کئی مصنوعات کو جنرل سیلز ٹیکس (جی ایس ٹی) کے دائرہ کار میں لایا جا رہا ہے، جس کے نتیجے میں حکومت کو تقریباً 70 ارب روپے کی اضافی آمدنی حاصل ہونے کی توقع ہے۔
مجوزہ ٹیکس پالیسی کے تحت دودھ اور مختلف ڈیری مصنوعات، مٹھائیاں، جام، جیلی، کیچپ، مصالحے، کوکنگ آئل، گھی اور بیکری آئٹمز کی قیمتوں میں اضافہ متوقع ہے۔ اس کے علاوہ گھریلو استعمال کی اشیاء جیسے کراکری، پلاسٹک مصنوعات اور سینیٹری سامان بھی مہنگا ہو سکتا ہے۔
ذاتی استعمال کی متعدد مصنوعات بھی اس ٹیکس اثر سے محفوظ نہیں رہیں گی۔ ہیئر آئل، شیمپو، پرفیوم، باڈی اسپرے اور جوتوں سمیت کئی دیگر اشیاء کی قیمتیں بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔
فنانس بل کے مطابق سفری سامان میں سوٹ کیسز اور ٹریول بیگز، جبکہ گھریلو استعمال کے کچن ویئر اور کیمرے بھی مہنگے ہو سکتے ہیں۔ اسی طرح ای سگریٹس، زرعی ادویات اور جراثیم کش مصنوعات پر بھی اضافی مالی بوجھ پڑنے کا امکان ہے۔
دوسری جانب حکومت نے پرتعیش الیکٹرک گاڑیوں پر ٹیکس کی شرح بڑھانے کی تجویز دی ہے، جس سے قومی خزانے میں تقریباً 25 ارب روپے اضافی جمع ہونے کی توقع ہے۔
مزید برآں صنعتی اور تجارتی درآمد کنندگان کے لیے منافع سے متعلق موجودہ فرق ختم کرنے کی تجویز بھی شامل ہے، جس کے ذریعے حکومت کو 30 ارب روپے تک اضافی ٹیکس آمدن حاصل ہونے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تجاویز حتمی منظوری حاصل کر لیتی ہیں تو آنے والے مہینوں میں متعدد اشیائے ضروریہ اور صارفین کی روزمرہ ضروریات سے وابستہ مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔