حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
وفاقی بجٹ میں غریبوں کے لیے کچھ نہیں، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بقا ممکن نہیں: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان Home / پاکستان /

وفاقی بجٹ میں غریبوں کے لیے کچھ نہیں، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بقا ممکن نہیں: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان

ایڈیٹر - 13/06/2026
وفاقی بجٹ میں غریبوں کے لیے کچھ نہیں، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بقا ممکن نہیں: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان

وفاقی بجٹ میں غریبوں کے لیے کچھ نہیں، سیاسی استحکام کے بغیر معاشی بقا ممکن نہیں: چیئرمین پی ٹی آئی بیرسٹر گوہر خان

اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین بیرسٹر گوہر خان نے وفاقی حکومت کی جانب سے پیش کردہ بجٹ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے غریب کش اور عوامی امنگوں کے برعکس قرار دے دیا ہے۔ قومی اسمبلی کے اہم اجلاس سے خطاب اور بعد ازاں پارلیمنٹ ہاؤس کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے حکومتی معاشی دعووں کی حقیقت کو آشکار کیا۔

اپنے خطاب کے دوران بیرسٹر گوہر خان کا کہنا تھا کہ اس بجٹ میں عام آدمی اور غریب طبقے کے لیے کوئی ریلیف موجود نہیں ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ملک میں جب تک سیاسی استحکام نہیں آئے گا، تب تک معاشی استحکام کا خواب ادھورا رہے گا۔ انہوں نے منتخب عوامی نمائندوں کی نااہلی پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ ملک ہم سب کا ہے، لیکن جس طرح سیاسی انجینئرنگ کے تحت نمائندوں کو باہر کیا جا رہا ہے، اس سے پورے نظام پر سنجیدہ سوالات جنم لے رہے ہیں۔

چیئرمین پی ٹی آئی نے بانی پی ٹی آئی عمران خان سے ملاقاتوں پر عائد مبینہ پابندی کا معاملہ بھی ایوان میں اٹھایا۔ ان کا کہنا تھا کہ اکتوبر کے مہینے سے لے کر اب تک ملک کے مقبول ترین سیاسی رہنما سے قیادت اور وکلاء کو ملاقات کی اجازت نہیں دی جا رہی، جو بنیادی انسانی و سیاسی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ بانی پی ٹی آئی تک پارٹی قیادت کو فوری رسائی دی جائے اور حکومت اس رکاوٹ پر واضح جواب فراہم کرے۔

بجٹ کے تکنیکی پہلوؤں پر بات کرتے ہوئے بیرسٹر گوہر نے کہا کہ اس دستاویزی ہیر پھیر سے نہ بجلی سستی ہوگی، نہ لوڈشیڈنگ کا خاتمہ ممکن ہے اور نہ ہی روزمرہ استعمال کی اشیائے خوردونوش عام آدمی کی پہنچ میں آئیں گی۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ عوام پر بوجھ ڈالنے کے بجائے اپنی شاہ خرچیاں اور حکومتی اخراجات کم کیے جائیں اور ملک میں مؤثر انتظامی اصلاحات نافذ کی جائیں تاکہ معیشت کو حقیقی معنوں میں سہارا مل سکے۔