حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
جنیوا میں امریکا-ایران معاہدے کی بازگشت، شہباز شریف کی ممکنہ شرکت، اسحاق ڈار اور سوئس وزیر خارجہ کا اہم رابطہ Home / پاکستان /

جنیوا میں امریکا-ایران معاہدے کی بازگشت، شہباز شریف کی ممکنہ شرکت، اسحاق ڈار اور سوئس وزیر خارجہ کا اہم رابطہ

ایڈیٹر - 13/06/2026
جنیوا میں امریکا-ایران معاہدے کی بازگشت، شہباز شریف کی ممکنہ شرکت، اسحاق ڈار اور سوئس وزیر خارجہ کا اہم رابطہ

اسلام آباد: نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اور سوئٹزرلینڈ کے وزیر خارجہ اگنازیو کاسس کے درمیان ٹیلی فون پر اہم گفتگو ہوئی، جس میں مشرق وسطیٰ کی تازہ صورتحال، سفارتی پیش رفت اور خطے میں امن کے امکانات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

سفارتی ذرائع کے مطابق دونوں رہنماؤں نے امریکا اور ایران کے درمیان جاری رابطوں اور ممکنہ مفاہمت کے عمل کو مثبت پیش رفت قرار دیا۔ گفتگو کے دوران خطے میں کشیدگی کم کرنے اور سیاسی حل کی حمایت پر بھی زور دیا گیا۔

سوئس وزیر خارجہ نے علاقائی امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ اسلام آباد نے مختلف مواقع پر تعمیری سفارت کاری کا مظاہرہ کیا ہے۔ دونوں ممالک نے مستقبل میں بھی قریبی مشاورت اور رابطوں کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا۔

یہ گزشتہ 48 گھنٹوں کے دوران پاکستانی اور سوئس وزرائے خارجہ کے درمیان دوسرا باضابطہ رابطہ ہے، جسے موجودہ علاقائی صورتحال کے تناظر میں اہم قرار دیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب وزیراعظم شہباز شریف کی جنیوا آمد سے متعلق مختلف اطلاعات گردش کر رہی ہیں۔ بعض رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وہ امریکا اور ایران کے درمیان ممکنہ مفاہمتی یادداشت پر دستخط کی تقریب میں شرکت کر سکتے ہیں، تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر کوئی تصدیق سامنے نہیں آئی۔

ترک خبر رساں ادارے انادولو نے اپنی رپورٹ میں امریکی میڈیا ادارے ایگزیوس کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ امریکی فضائیہ کے چار سی-17 طیارے یورپ روانہ ہوئے ہیں، جنہیں ممکنہ طور پر امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے متوقع دورۂ جنیوا سے جوڑا جا رہا ہے۔ رپورٹس کے مطابق اتوار کو جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان کسی اہم سفارتی پیش رفت کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔

تاہم ایرانی خبر رساں ادارے فارس نے ان قیاس آرائیوں کو مسترد کرتے ہوئے ایک مذاکراتی ذریعے کے حوالے سے کہا ہے کہ اتوار کے روز جنیوا میں امریکا اور ایران کے درمیان کسی معاہدے پر دستخط کی خبریں بے بنیاد اور حقیقت کے منافی ہیں۔

علاقائی اور بین الاقوامی سفارتی حلقوں کی نظریں اب جنیوا میں ہونے والی ممکنہ سرگرمیوں پر مرکوز ہیں، جہاں آنے والے دنوں میں صورتحال مزید واضح ہونے کی توقع کی جا رہی ہے۔