اسلام آباد: وفاقی حکومت نے چھوٹے دکانداروں کو باقاعدہ ٹیکس نیٹ میں شامل کرنے کے لیے فکسڈ ٹیکس نظام متعارف کرانے کی تجویز دے دی ہے، جس کے تحت مخصوص کاروباری حد تک آمدن رکھنے والے تاجروں پر آسان اور یکساں ٹیکس عائد کیا جائے گا۔
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے مالی سال 2026-27 کا بجٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے اس حوالے سے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی ہے اور چھوٹے دکانداروں اور ان کے نمائندہ گروپس سے مشاورت کے بعد یہ نظام تیار کیا گیا ہے، جس میں ان کے خدشات اور مشکلات کو مدنظر رکھا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق انکم ٹیکس آرڈیننس کے تحت چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرانے کی تجویز ہے، جس کا اطلاق ان کاروباری افراد پر ہوگا جن کی سالانہ فروخت 20 کروڑ روپے یا اس سے کم ہے۔
مجوزہ نظام کے تحت ایسے دکانداروں پر سالانہ سیلز کا ایک فیصد ٹیکس عائد کیا جائے گا، جبکہ ودہولڈنگ ٹیکس ایڈجسٹمنٹ کی سہولت بھی دستیاب ہوگی۔ تاہم ریٹرن جمع کراتے وقت کم از کم 25 ہزار روپے ٹیکس ادا کرنا لازمی ہوگا اور ان دکانداروں کو روایتی آڈٹ کے عمل سے مستثنیٰ رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
اس اسکیم میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ فکسڈ ٹیکس نظام اختیار کرنے والے دکانداروں پر خریداری کے وقت ودہولڈنگ ٹیکس کی ذمہ داری لاگو نہیں ہوگی، جبکہ انہیں پوائنٹ آف سیل (پی او ایس) سسٹم نصب کرنے سے بھی استثنیٰ حاصل ہوگا۔
مزید بتایا گیا ہے کہ اس نظام کے تحت شامل دکانداروں کو ایک خصوصی سبز تختی فراہم کی جائے گی، جس پر کیو آر کوڈ درج ہوگا۔ یہ تختی دکان کے باہر آویزاں کرنا لازمی ہوگا، اور اس کے ذریعے متعلقہ کاروبار کی رجسٹریشن کی تصدیق کی جا سکے گی۔
حکومتی تجویز کے مطابق اس اسکیم میں ایک سادہ اور مختصر ٹیکس گوشوارہ متعارف کرایا جائے گا جو صرف ایک صفحے پر مشتمل ہوگا اور اسے اردو سمیت تمام بڑی علاقائی زبانوں میں دستیاب بنایا جائے گا، تاکہ ٹیکس نظام کو زیادہ سے زیادہ آسان اور قابلِ رسائی بنایا جا سکے۔