حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
وفاقی بجٹ: مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ تجویز Home / پاکستان /

وفاقی بجٹ: مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ تجویز

ایڈیٹر - 13/06/2026
وفاقی بجٹ: مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد اضافہ تجویز

بجٹ دھماکہ: مزدوروں کی کم از کم اجرت اور سرکاری ملازمین کی تنخواہ (Salary) میں بڑا اضافہ تجویز، نیا سرکاری آرڈر جاری

اسلام آباد: وفاقی حکومت نے مالی سال 2026-27 کے بجٹ میں غریب اور متوسط طبقے کے لیے اہم ریلیف کا اعلان کر دیا ہے۔ وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کردہ بجٹ دستاویزات کے مطابق، مزدوروں کی کم از کم ماہانہ اجرت میں 10 فیصد کا اضافہ تجویز کیا گیا ہے، جس سے کم از کم تنخواہ بڑھ کر 40,700 روپے ہو جائے گی۔ اس نئی حکومتی اسکیم (Government Scheme) کا مقصد مہنگائی کے اثرات کو کم کرنا ہے۔ اس کے ساتھ ہی سرکاری ملازمین کی تنخواہ (Salary) اور پنشن میں بھی ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے تاکہ لوگ بینک لون (Loan) اور دیگر اخراجات کا بوجھ آسانی سے اٹھا سکیں۔

 

وزیر خزانہ محمد اورنگزیب کی جانب سے پیش کردہ بجٹ دستاویزات کے مطابق اس فیصلے کی تفصیلات درج ذیل ہیں: 

اجرت اور تنخواہوں کی تفصیلات

  • کم از کم ماہانہ اجرت: وفاقی دارالحکومت (اسلام آباد) اور وفاقی اداروں کے لیے پرانی اجرت 37,000 روپے تھی، جس میں 3,700 روپے کا اضافہ (10 فیصد) کر کے اسے 40,700 روپے کر دیا گیا ہے۔
  • سرکاری ملازمین کی تنخواہیں: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں 7 فیصد اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔ 

صوبائی سطح پر صورتحال

وفاقی بجٹ کے اس اعلان کے بعد صوبائی حکومتیں (جیسے پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان) بھی اپنے اپنے صوبائی بجٹ میں کم از کم اجرت کا حتمی اعلان کریں گی۔ گزشتہ سالوں کے رجحان کے مطابق صوبوں میں یہ اجرت وفاق کے مقابلے میں عام طور پر تھوڑی زیادہ (تقریباً 45,000 روپے تک) رکھے جانے کا امکان ہے۔

 

بجٹ کی اہم ترین تفصیلات

  • کم از کم اجرت میں اضافہ: وفاقی دارالحکومت اسلام آباد اور وفاقی اداروں کے ملازمین کی پرانی اجرت 37,000 روپے سے بڑھا کر 40,700 روپے کرنے کی منظوری دی جا رہی ہے۔
  • سرکاری ملازمین کے لیے ریلیف: سرکاری ملازمین کی ماہانہ تنخواہ (Salary) اور پنشن میں 7 فیصد کا براہ راست اضافہ تجویز کیا گیا ہے۔
  • صوبائی بجٹ کا شیڈول: وفاق کے اس فیصلے کے بعد پنجاب، سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان کی صوبائی حکومتیں بھی جلد نئے بجٹ کا اعلان کریں گی۔
  • صوبوں میں زیادہ اجرت کا امکان: ماضی کے ریکارڈ اور سرمایہ کاری (Investment) کے رجحانات کو مدنظر رکھتے ہوئے صوبوں میں کم از کم اجرت وفاق سے زیادہ، یعنی 45,000 روپے تک مقرر ہونے کی توقع ہے۔
  • رجسٹریشن اور قانونی تحفظ: تمام نجی اور سرکاری اداروں کے ملازمین کے لیے اس نئے قانون کے تحت رجسٹریشن (Registration) لازمی ہوگی تاکہ ہر مزدور کو اس کا پورا منافع (Profit) اور حق مل سکے۔
  • مستقبل کا تحفظ: حکومت مزدوروں کے لیے ہیلتھ انشورنس (Insurance) اور دیگر فلاحی اسکیموں پر بھی غور کر رہی ہے۔