تہران: ایران نے ممکنہ امریکی کارروائی کے خدشات کے پیشِ نظر اپنے انتہائی افزودہ یورینیم کے ذخائر کی حفاظت کے لیے غیر معمولی حفاظتی اقدامات تیز کر دیے ہیں، جس کے بعد ان مواد تک رسائی پہلے کے مقابلے میں کہیں زیادہ دشوار اور خطرناک ہو گئی ہے۔
امریکی نشریاتی ادارے سی این این کی رپورٹ کے مطابق امریکی انٹیلی جنس سے وابستہ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران نے بعض زیرِ زمین تنصیبات کے داخلی راستوں کو بند کرنے، سرنگوں کو ناقابلِ استعمال بنانے اور حساس مقامات کے اطراف اضافی دفاعی انتظامات کرنے جیسے اقدامات کیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق تقریباً نصف ٹن اعلیٰ درجے کے افزودہ یورینیم تک رسائی اب نہ صرف پیچیدہ بلکہ وقت طلب بھی ہو چکی ہے، جس سے اس مواد کو حاصل کرنے یا منتقل کرنے کی کسی بھی ممکنہ کوشش کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ماضی میں اس امکان کا اظہار کر چکے ہیں کہ امریکا ایران کے جوہری مواد کو اپنے کنٹرول میں لینے کے لیے عملی اقدامات پر غور کر سکتا ہے۔ تاہم ایران کی حالیہ حفاظتی حکمت عملی نے اس نوعیت کے کسی بھی منصوبے کو مزید مشکل بنا دیا ہے۔
امریکی ذرائع کے مطابق واشنگٹن اور تہران کے درمیان جاری سفارتی رابطوں میں افزودہ یورینیم کے مستقبل کے حوالے سے مختلف تجاویز زیر غور ہیں۔ بعض اطلاعات میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ دونوں فریق ایک ایسے فریم ورک پر بات کر رہے ہیں جس کے تحت اس مواد کو یا تو کم افزودہ کیا جائے گا یا بعد ازاں کسی محفوظ مقام پر منتقل کیا جائے گا، تاہم اس حوالے سے کوئی حتمی اتفاق رائے سامنے نہیں آیا۔
دوسری جانب ایرانی حکام نے ان رپورٹس پر فوری طور پر کوئی باضابطہ ردعمل نہیں دیا، جبکہ وائٹ ہاؤس نے بھی معاملے پر تبصرے سے گریز کیا ہے۔
جوہری امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر ایران نے واقعی اپنے ذخائر کو مزید محفوظ اور منتشر مقامات پر منتقل کر دیا ہے تو مستقبل میں کسی بھی معاہدے کے تحت ان کی تصدیق، نگرانی اور منتقلی کا عمل مزید پیچیدہ ہو سکتا ہے۔
بین الاقوامی حلقوں کے مطابق ایران کے افزودہ یورینیم کا بڑا حصہ وسطی ایران میں واقع زیرِ زمین تنصیبات میں موجود ہونے کا امکان ہے، جبکہ کچھ مواد دیگر محفوظ مقامات پر بھی رکھا گیا ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ حالیہ اقدامات نے نہ صرف عسکری آپشنز کو محدود کیا ہے بلکہ آئندہ مذاکرات میں بھی اس معاملے کو ایک اہم اور حساس موضوع بنا دیا ہے۔