حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پنجاب بجٹ 2025-26: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان، اربوں روپے کے نئے فنڈز مختص کرنے کی تجویز Home / پاکستان /

پنجاب بجٹ 2025-26: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان، اربوں روپے کے نئے فنڈز مختص کرنے کی تجویز

ایڈیٹر - 09/06/2026
پنجاب بجٹ 2025-26: سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن میں اضافے کا امکان، اربوں روپے کے نئے فنڈز مختص کرنے کی تجویز

لاہور: پنجاب حکومت کے آئندہ مالی سال 2025-26 کے بجٹ میں سرکاری ملازمین کی تنخواہوں اور پنشن سے متعلق اہم تجاویز سامنے آگئی ہیں۔ ذرائع کے مطابق صوبائی حکومت تنخواہوں میں اضافے کے حوالے سے وفاقی حکومت کی پالیسی کی پیروی کرے گی، جبکہ مختلف شعبوں کے لیے کھربوں روپے کے اخراجات اور ترقیاتی فنڈز تجویز کیے گئے ہیں۔

بجٹ دستاویزات سے متعلق ذرائع کا کہنا ہے کہ آئندہ مالی سال کے لیے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں کی مد میں تقریباً 650 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز زیر غور ہے، جبکہ پنشن کی ادائیگیوں کے لیے 505 ارب 80 کروڑ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔

ذرائع کے مطابق پنجاب کو صوبائی محصولات کی مد میں 1330 ارب روپے سے زائد آمدن متوقع ہے، جس کے پیش نظر مختلف عوامی فلاحی اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بھی بھاری رقوم مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔

مجوزہ بجٹ میں پنجاب فنانس کمیشن کے لیے 800 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے، جبکہ سماجی تحفظ کے پروگراموں کے لیے 25 ارب روپے رکھنے کی سفارش سامنے آئی ہے۔ اسی طرح "ستھرا پنجاب" پروگرام کے لیے 150 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کا مزید کہنا ہے کہ سرکاری محکموں کے روزمرہ اور انتظامی اخراجات کے لیے 580 ارب 20 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں، جبکہ سرمایہ کاری اور دیگر ترقیاتی پروگراموں کے لیے 221 ارب 90 کروڑ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔

بیرونی مالی معاونت سے جاری ترقیاتی منصوبوں کے لیے 54 ارب روپے رکھنے کی تجویز بھی زیر غور ہے، جبکہ ترقیاتی اور سرمایہ جاتی نوعیت کے دیگر اخراجات کے لیے 570 ارب روپے مختص کیے جانے کا امکان ہے۔

ذرائع کے مطابق مجموعی طور پر پنجاب کے آئندہ مالی سال کے اخراجات کا حجم 3569 ارب 60 کروڑ روپے تک پہنچ سکتا ہے، جس کا حتمی اعلان صوبائی بجٹ پیش کیے جانے کے وقت کیا جائے گا۔

اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ تنخواہوں، پنشن اور ترقیاتی منصوبوں کے لیے بڑے پیمانے پر فنڈز مختص کرنے کا مقصد نہ صرف سرکاری نظام کو مؤثر بنانا ہے بلکہ عوامی فلاح اور معاشی سرگرمیوں کو بھی فروغ دینا ہے۔