حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
پاکستان اور روس کے تعلقات میں نیا موڑ، 2030 تک بڑے اقتصادی منصوبوں پر پیش رفت کا اشارہ Home / بین الاقوامی /

پاکستان اور روس کے تعلقات میں نیا موڑ، 2030 تک بڑے اقتصادی منصوبوں پر پیش رفت کا اشارہ

ایڈیٹر - 09/06/2026
پاکستان اور روس کے تعلقات میں نیا موڑ، 2030 تک بڑے اقتصادی منصوبوں پر پیش رفت کا اشارہ

اسلام آباد: وفاقی وزیر توانائی اویس لغاری نے کہا ہے کہ پاکستان اور روس کے درمیان تعلقات تیزی سے مضبوط ہو رہے ہیں اور دونوں ممالک باہمی تعاون کے نئے مواقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے مختلف شعبوں میں شراکت داری کو وسعت دینے کے لیے سرگرم ہیں۔

پاکستان اور روس کے دوطرفہ تعلقات سے متعلق ایک ویبینار سے خطاب کرتے ہوئے اویس لغاری نے کہا کہ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران دونوں ممالک کے تعلقات میں نمایاں بہتری آئی ہے، جس کے نتیجے میں باہمی اعتماد اور تعاون کی فضا مزید مستحکم ہوئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ تجارت، توانائی، صنعت، تعلیم، سائنسی تحقیق اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں پاکستان اور روس کے درمیان روابط میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ان کے مطابق دونوں ممالک مشترکہ اقتصادی مفادات کے حصول اور علاقائی رابطوں کو فروغ دینے کے لیے کئی اہم منصوبوں پر غور کر رہے ہیں۔

وفاقی وزیر توانائی نے کہا کہ پاکستان بین الاقوامی شمال۔جنوب ٹرانسپورٹ کوریڈور میں شمولیت کو انتہائی اہمیت دیتا ہے، کیونکہ اس سے خطے میں تجارتی سرگرمیوں اور رابطہ کاری کو نئی جہت مل سکتی ہے۔ انہوں نے گوادر بندرگاہ کو اس اہم تجارتی راہداری سے منسلک کرنے کی تجویز کو بھی مثبت اور مستقبل کے لیے مفید قرار دیا۔

اویس لغاری کا کہنا تھا کہ پاکستان اور روس کے درمیان 2030 تک اقتصادی تعاون کے جامع پروگرام پر اتفاق رائے دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان کے مطابق اس منصوبے سے تجارت، سرمایہ کاری اور صنعتی تعاون کے نئے امکانات پیدا ہوں گے۔

انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد اور ماسکو تجارتی سرگرمیوں میں حائل رکاوٹوں کو دور کرنے اور ادائیگیوں کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے مسلسل مشاورت کر رہے ہیں، تاکہ کاروباری برادری کو سہولت فراہم کی جا سکے اور دوطرفہ تجارت کے حجم میں اضافہ ممکن ہو۔

وفاقی وزیر نے اس امید کا اظہار بھی کیا کہ آنے والے برسوں میں پاکستان اور روس کے درمیان اقتصادی اور تزویراتی تعاون مزید مضبوط ہوگا، جس سے نہ صرف دونوں ممالک بلکہ پورے خطے کو فائدہ پہنچے گا۔