پی ٹی اے کی سم ڈس اون اور ٹرانسفر پالیسی میں سخت ترین تبدیلیاں، نئی فعال سمز ایک سال تک بلاک یا منتقل نہیں ہو سکیں گی
اسلام آباد: پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) نے ملک بھر میں موبائل سمز کی غیر قانونی فروخت، جعلی رجسٹریشن اور سیکیورٹی خدشات کے سدِباب کے لیے سم ڈس اون پالیسی میں ایک انتہائی اہم اور بنیادی تبدیلی کا اعلان کر دیا ہے۔ نئی پالیسی کے تحت، نئی فعال (ایکٹیویٹ) ہونے والی سمز کے لیے ڈس اون کرنے کی رعایتی مدت کو 60 دن سے یکمشت بڑھا کر 365 دن (ایک سال) کر دیا گیا ہے۔ پی ٹی اے کی جانب سے جاری کردہ باقاعدہ نوٹیفکیشن کے مطابق، اب کوئی بھی صارف نئی سم خریدنے کے بعد ایک سال کے عرصے تک اسے اپنے شناختی کارڈ سے نہ تو خارج (ڈس اون) کروا سکے گا اور نہ ہی اس سم کی ملکیت کسی دوسرے شخص کے نام منتقل کرنے کا مجاز ہوگا۔
ٹیلی کام ریگولیٹر کا کہنا ہے کہ اس سخت اقدام کا بنیادی مقصد مارکیٹ میں غیر قانونی طریقے سے سموں کے اجراء اور بائیومیٹرک نظام کو دھوکہ دے کر کی جانے والی جعلی رجسٹریشن کا مکمل خاتمہ کرنا ہے۔ ماضی میں دیکھا گیا ہے کہ مختلف مافیاز مختصر مدت کے لیے سمز ایکٹیویٹ کروا کر انہیں غیر قانونی سرگرمیوں میں استعمال کرتے تھے اور پھر ڈس اون کر دیتے تھے، جس سے سیکیورٹی ایجنسیوں کے لیے ملزمان تک پہنچنا مشکل ہو جاتا تھا۔ پی ٹی اے نے ملک بھر کے شہریوں کو سختی سے ہدایت کی ہے کہ وہ فرنچائزز یا ریٹیلرز پر بائیومیٹرک تصدیق کے وقت انتہائی احتیاط برتیں اور اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کے انگوٹھے کا نشان صرف اسی سم کے لیے استعمال ہو رہا ہے جو وہ خریدنا چاہتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی شہریوں کو مشورہ دیا گیا ہے کہ وہ اپنے شناختی کارڈ پر رجسٹرڈ سمز کی کل تعداد اور تفصیلات کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔