گلگت/اسلام آباد: گلگت بلتستان اسمبلی کے انتخابات کے بعد حکومت سازی کے لیے سیاسی سرگرمیوں میں تیزی آ گئی ہے، جبکہ ذرائع کا کہنا ہے کہ پاکستان پیپلز پارٹی اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے درمیان مشترکہ حکومت کے قیام پر ابتدائی سطح پر مشاورت جاری ہے۔
اطلاعات کے مطابق دونوں جماعتیں ماضی کے پاکستان ڈیموکریٹک موومنٹ (پی ڈی ایم) طرز کے تعاون پر غور کر رہی ہیں۔ مجوزہ فارمولے کے تحت وزارتِ اعلیٰ پاکستان پیپلز پارٹی کے پاس جانے کا امکان ہے، جبکہ گورنر کا منصب مسلم لیگ (ن) کو دیے جانے کی تجویز زیر غور ہے۔ ذرائع کا یہ بھی کہنا ہے کہ ممکنہ اتحادی حکومت میں وزارتوں کی تقسیم 60 اور 40 فیصد کے تناسب سے کی جا سکتی ہے۔
دریں اثنا ایوانِ صدر میں صدرِ مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف کے درمیان ایک اہم ملاقات ہوئی، جس میں ملکی سیاسی صورتحال، گلگت بلتستان کے انتخابی نتائج، آزاد کشمیر کے امور اور دیگر قومی معاملات پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
اجلاس میں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار، وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی، وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب اور وزیراعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ بھی شریک تھے۔ پیپلز پارٹی کی جانب سے بلاول بھٹو زرداری، مراد علی شاہ، شیری رحمان، نوید قمر اور سلیم مانڈوی والا نے شرکت کی، جبکہ وزیراعظم آزاد کشمیر فیصل راٹھور اور سابق وزیراعظم راجا پرویز اشرف بھی اجلاس کا حصہ تھے۔
ذرائع کے مطابق ملاقات کے دوران وفاقی بجٹ سے متعلق حکومتی اور پیپلز پارٹی کی متعدد تجاویز پر اتفاق رائے بھی پیدا ہوا، جس کے بعد پیپلز پارٹی نے بجٹ کی منظوری کے لیے حکومت کو مثبت اشارہ دے دیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ملاقات کے دوران وزیراعظم شہباز شریف نے گلگت بلتستان کے انتخابات میں پاکستان پیپلز پارٹی کی نمایاں کامیابی پر صدر آصف علی زرداری کو مبارکباد دی۔ اس موقع پر ہونے والی غیر رسمی گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری کی انتخابی مہم کا بھی ذکر کیا گیا، جس پر شرکاء نے خوشگوار ماحول میں تبادلہ خیال کیا۔
ادھر گلگت بلتستان اسمبلی کی 24 نشستوں میں سے 21 حلقوں کے غیر حتمی اور غیر سرکاری نتائج سامنے آ چکے ہیں، جبکہ تین نشستوں کے نتائج کا انتظار ہے۔ اب تک کے نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نو نشستوں کے ساتھ سب سے بڑی جماعت بن کر ابھری ہے۔
آزاد امیدوار بھی انتخابی میدان میں نمایاں کارکردگی دکھاتے ہوئے سات نشستوں پر کامیاب ہوئے ہیں، جبکہ پاکستان مسلم لیگ (ن) چار نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی ہے۔ مجلس وحدت مسلمین نے ایک نشست اپنے نام کی ہے۔
حلقہ وار نتائج کے مطابق پاکستان پیپلز پارٹی نے جی بی اے ون، چار، پانچ، سات، نو، دس، گیارہ، بارہ اور انیس میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آزاد امیدوار جی بی اے تین، چھ، پندرہ، سولہ، اکیس، تئیس اور چوبیس میں کامیاب قرار پائے ہیں۔ مسلم لیگ (ن) نے جی بی اے دو، اٹھارہ، بیس اور بائیس میں کامیابی سمیٹی، جبکہ جی بی اے آٹھ میں مجلس وحدت مسلمین نے میدان مار لیا۔
سیاسی مبصرین کے مطابق باقی تین نشستوں کے نتائج آنے کے بعد حکومت سازی کی تصویر مزید واضح ہو جائے گی، تاہم موجودہ صورتحال میں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کے درمیان اتحاد گلگت بلتستان کی آئندہ حکومت کے لیے سب سے مضبوط امکان تصور کیا جا رہا ہے۔