حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
اتحادیوں پر حملہ ایران پر حملہ تصور ہوگا۔ ایت اللہ صادق آملی لاریجانی Home / بین الاقوامی /

اتحادیوں پر حملہ ایران پر حملہ تصور ہوگا۔ ایت اللہ صادق آملی لاریجانی

ایڈیٹر - 08/06/2026
اتحادیوں پر حملہ ایران پر حملہ تصور ہوگا۔ ایت اللہ صادق آملی لاریجانی

تہران: ایران کی مصلحتِ نظام کونسل کے سربراہ صادق آملی لاریجانی  نے کہا ہے کہ لبنان کے دفاع میں اسرائیل کے خلاف ایران کی حالیہ کارروائی محض ایک فوجی ردعمل نہیں بلکہ ایک نئے تزویراتی نظریے کا عملی اعلان ہے، جس کے تحت محورِ مزاحمت کے کسی بھی رکن پر حملے کا جواب وسیع علاقائی سطح پر دیا جائے گا۔

عرب میڈیا کو دیے گئے بیان میں آملی لاریجانی نے کہا کہ ایران نے واضح پیغام دیا ہے کہ خطے میں اس کے اتحادیوں یا مزاحمتی گروہوں کو نشانہ بنانے کی صورت میں ردعمل صرف مقامی حدود تک محدود نہیں رہے گا بلکہ اس کے اثرات پورے خطے میں محسوس کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ محورِ مزاحمت میں لبنان کی حزب اللہ  سمیت متعدد گروہ شامل ہیں اور ان میں سے کسی بھی فریق پر حملہ ایک بڑے ردعمل کا سبب بن سکتا ہے۔ ان کے مطابق اس پالیسی کا مقصد خطے میں طاقت کے توازن کو برقرار رکھنا اور مخالف فریقوں کو مزید اقدامات سے باز رکھنا ہے۔

ایرانی عہدیدار نے خبردار کیا کہ اگر ایران کے اہم دفاعی یا بنیادی ڈھانچے کو نشانہ بنایا گیا یا موجودہ تنازع مزید شدت اختیار کر گیا تو تہران ایک جامع اور مؤثر جواب دینے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسے ردعمل کا دائرہ صرف براہِ راست حملہ آوروں تک محدود نہیں رہے گا بلکہ ان قوتوں تک بھی پھیل سکتا ہے جو اس محاذ آرائی کی حمایت کریں گی۔

آملی لاریجانی کے مطابق ایران نے اپنی دفاعی حکمت عملی میں ایک نئی سوچ متعارف کرائی ہے، جس کے تحت صرف خطرات کا انتظار کرنے کے بجائے پیشگی اقدامات اور فعال دفاعی پالیسی کو ترجیح دی جائے گی۔

سیاسی مبصرین کے مطابق یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی بڑھ رہی ہے اور ایران، اسرائیل اور ان کے اتحادیوں کے درمیان تعلقات انتہائی حساس مرحلے میں داخل ہو چکے ہیں۔

واضح رہے کہ "محورِ مزاحمت" ایران کے حمایت یافتہ سیاسی اور عسکری گروہوں کے غیر رسمی اتحاد کو کہا جاتا ہے، جس میں لبنان کی حزب اللہ، یمن کے حوثی، عراق اور شام کے ایران نواز مسلح گروہ اور مختلف ادوار میں بعض فلسطینی تنظیمیں بھی شامل رہی ہیں۔ اس اتحاد کا بنیادی مقصد خطے میں اسرائیلی اور امریکی اثر و رسوخ کی مخالفت کرنا قرار دیا جاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اس نئے مؤقف سے خطے کی سکیورٹی صورتحال مزید پیچیدہ ہو سکتی ہے اور آنے والے دنوں میں علاقائی طاقتوں کے درمیان کشیدگی میں اضافے کے امکانات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔