حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں پر مکمل پابندی، حوثیوں کی دھمکی سے اسرائیلی تجارت کو نیا خطرہ Home / بین الاقوامی /

بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں پر مکمل پابندی، حوثیوں کی دھمکی سے اسرائیلی تجارت کو نیا خطرہ

ایڈیٹر - 08/06/2026
بحیرہ احمر میں اسرائیلی جہازوں پر مکمل پابندی، حوثیوں کی دھمکی سے اسرائیلی تجارت کو نیا خطرہ

صنعاء / تل ابیب: یمن کے حوثی گروہ نے اسرائیل پر میزائل حملے کا دعویٰ کرتے ہوئے بحیرہ احمر میں اسرائیلی بحری جہازوں کی آمد و رفت پر مکمل پابندی عائد کرنے کا اعلان کیا ہے، جس سے عالمی تجارت کے اہم سمندری راستے میں ایک بار پھر شدید خلل کے خدشات پیدا ہوگئے ہیں۔

حوثی عسکری ترجمان یحییٰ ساری نے ایک بیان میں کہا ہے کہ اسرائیلی جہاز رانی پر پابندی فوری طور پر نافذ العمل ہوگی، اور اس کے بعد اس علاقے میں کسی بھی اسرائیلی نقل و حرکت کو ان کی مسلح افواج کے لیے ”جائز ہدف“ تصور کیا جائے گا۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کی افواج نے اسرائیلی اہداف کو نشانہ بناتے ہوئے میزائل حملے کیے ہیں، جن میں درست نشانے پر حملوں کا دعویٰ بھی شامل ہے۔

دوسری جانب اسرائیلی فوج کے مطابق یمن کی جانب سے داغے گئے ایک میزائل کی نشاندہی کی گئی ہے، تاہم فضائی دفاعی نظام نے اس خطرے کو ناکام بنانے کے لیے بروقت کارروائی کی۔

بحیرہ احمر پہلے بھی حوثیوں کے حملوں کی زد میں رہ چکا ہے، جہاں اسرائیل اور حماس کے درمیان جاری جنگ کے دوران متعدد تجارتی بحری جہازوں کو نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان حملوں کے باعث کئی عالمی شپنگ کمپنیوں نے اپنا روٹ تبدیل کرتے ہوئے افریقہ کے جنوبی حصے کے گرد طویل اور مہنگے متبادل راستے اختیار کیے تھے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اس نئے اعلان کے بعد عالمی تجارتی راستوں پر دباؤ میں مزید اضافہ ہوسکتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب خطے میں پہلے ہی کشیدگی بلند سطح پر ہے۔

مزید برآں خلیج فارس اور آبنائے ہرمز جیسے اہم توانائیی راستے بھی پہلے سے غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، جس کے باعث عالمی منڈیوں میں توانائی کی ترسیل متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔

اطلاعات کے مطابق حوثی گروہ نے مارچ میں غزہ جنگ کے تناظر میں خطے کے تنازع میں عملی طور پر شمولیت اختیار کی تھی، اور اس کے بعد سے بحیرہ احمر میں حملوں اور دھمکیوں کا سلسلہ وقفے وقفے سے جاری ہے۔

حالیہ اعلان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب خطے میں اسرائیل اور ایران کے درمیان کشیدگی دوبارہ بڑھ رہی ہے، جس سے مشرق وسطیٰ کی مجموعی صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے۔