اسلام آباد / گلگت: گلگت بلتستان میں 7 جون کو ہونے والے عام انتخابات کے سلسلے میں ملک کا سیاسی درجہ حرارت عروج پر پہنچ گیا ہے، جبکہ مسلم لیگ (ن) کے قائد میاں نواز شریف کی عملی سیاست میں دوبارہ فعال واپسی کی قیاس آرائیاں بھی دم توڑنے لگی ہیں۔ اکتوبر 2023 میں وطن واپسی کے بعد سے سیاسی منظرنامے اور 2024 کے عام انتخابات کی مہم سے نسبتاً دور رہنے والے سابق وزیر اعظم کی عوامی اور پارلیمانی سرگرمیوں میں اچانک غیر معمولی تیزی دیکھنے میں آئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق قائد مسلم لیگ (ن) آج گلگت بلتستان کا انتہائی اہم دورہ کر رہے ہیں، جہاں وہ مقامی قیادت، پارٹی ورکرز اور ٹکٹ ہولڈرز سے خصوصی ملاقاتیں کریں گے تاکہ آئندہ ہفتے ہونے والے انتخابی معرکے کے لیے حتمی حکمت عملی مرتب کی جا سکے۔
ذرائع کے مطابق نواز شریف کی جانب سے انتخابی عمل کی براہِ راست نگرانی کا آغاز 19 اپریل کو مری میں مسلم لیگ (ن) کے پارلیمانی بورڈ کے اعلیٰ سطح کے اجلاس کی صدارت سے ہوا تھا۔ اس اجلاس میں انہوں نے گلگت بلتستان انتخابات کے لیے پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم کو حتمی شکل دی اور شرکاء سے کلیدی خطاب بھی کیا۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ 7 جون کو ہونے والے یہ انتخابات نہ صرف گلگت بلتستان کی آئندہ سیاسی سمت کا تعین کریں گے، بلکہ یہ مسلم لیگ (ن) کے قائد کے مستقبل کے قومی سیاسی کردار کو واضح کرنے میں بھی سنگِ میل ثابت ہوں گے۔