پشاور: پاکستان تحریک انصاف خیبر پختونخوا کے اندرونی اختلافات اور صوبائی حکومت کی کارکردگی پر تحفظات کے باعث پارٹی میں ایک بڑا دھڑا کھل کر سامنے آ گیا ہے۔ پشاور میں پی ٹی آئی کے ناراض اراکینِ اسمبلی کی ایک اہم اور خفیہ بیٹھک تقریباً چار گھنٹے تک جاری رہی، جس میں 22 صوبائی قانون سازوں نے شرکت کی۔ اجلاس میں صوبے کی موجودہ سیاسی صورتحال، بگڑتے ہوئے امن و امان، پارٹی کے تنظیمی معاملات اور صوبائی حکومت کی مجموعی کارکردگی کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کے شرکاء نے دوٹوک انداز میں واضح کیا کہ ان کے گروپ کا وزیر اعلیٰ علی امین گنڈا پور سے کوئی تعلق نہیں ہے اور ان کا نام جان بوجھ کر صوبائی قیادت کے ساتھ جوڑا جا رہا ہے۔
ذرائع کے مطابق اجلاس کے اختتام پر پارٹی کے مرکزی چیئرمین بیرسٹر گوہر علی خان کو ایک باقاعدہ مکتوب ارسال کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ اس خط کے ذریعے مرکزی قیادت کو صوبے میں گورننس کی ابتر صورتحال، کرپشن کے مبینہ الزامات، اور بانی چیئرمین عمران خان کی رہائی کے لیے صوبائی سطح پر مؤثر تحریک نہ چلائے جانے جیسے سنگین امور سے آگاہ کیا جائے گا۔ ناراض اراکین نے اسد قیصر کی سربراہی میں قائم کردہ چھ رکنی مفاہمتی کمیٹی سے ملاقات کرنے سے صاف انکار کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ وہ اپنے تحفظات صرف اور صرف بیرسٹر گوہر کے سامنے رکھیں گے۔ اس سیاسی بحران کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے ناراض گروپ نے دو روز بعد ایک اور بڑا اجلاس طلب کر لیا ہے، جس میں مزید اراکینِ اسمبلی کی شرکت بھی متوقع ہے۔