حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
بغیر لائسنس نسوار بنانے اور فروخت کرنے پر 30 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔ Home / پاکستان /

بغیر لائسنس نسوار بنانے اور فروخت کرنے پر 30 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔

ایڈیٹر - 28/04/2026
بغیر لائسنس نسوار بنانے اور فروخت کرنے پر 30 ہزار روپے تک جرمانہ ہوگا۔

خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کی روایتی صنعت اور کاروبار کو ریگولیٹ کرنے کی سمت میں ایک بڑا قانونی قدم اٹھاتے ہوئے "نسوار ریگولیشن ایکٹ 2026" نافذ کر دیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت صوبے بھر میں بغیر لائسنس کے نسوار تیار کرنے، ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے کو باقاعدہ جرم قرار دے دیا گیا ہے۔

محکمہ خوراک اور متعلقہ حکام کے مطابق، اس ایکٹ کا مقصد نسوار کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء کی نگرانی کرنا اور اسے صحت کے عالمی اصولوں کے مطابق بنانا ہے۔ قانون کے تحت اب ہر چھوٹے بڑے مینوفیکچرر اور دکاندار کے لیے متعلقہ حکام سے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔

حکومتی اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں، خصوصاً بغیر لائسنس کاروبار کرنے والوں پر 30 ہزار روپے تک کا فوری جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں دکان یا کارخانہ سیل کرنے اور قانونی کارروائی کی تنبیہ بھی کی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر معیاری اور مضرِ صحت اشیاء کی فروخت پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔

نئے قانون کی اہم تفصیلات:

  • لازمی رجسٹریشن (Mandatory Registration): نسوار بنانے والے کارخانوں اور فروخت کرنے والے دکانداروں کے لیے حکومت سے باقاعدہ لائسنس حاصل کرنا لازمی قرار دے دیا گیا ہے۔
  • بھاری جرمانہ (Heavy Fine): بغیر لائسنس نسوار بنانے یا بیچنے پر 30,000 روپے تک جرمانہ (Fine) عائد کیا جائے گا۔
  • بچوں کو فروخت پر پابندی: کم عمر بچوں کو نسوار فروخت کرنے پر 50,000 روپے جرمانہ اور ایک سال تک قید کی سزا تجویز کی گئی ہے۔
  • تعلیمی اداروں سے دوری: اسکولوں، مدرسوں اور ہسپتالوں کے 100 میٹر کے اندر نسوار کی فروخت پر مکمل پابندی ہوگی۔
  • پیکنگ اور اشتہارات: نسوار کو صرف سیل بند پیکنگ میں فروخت کیا جا سکے گا، جبکہ اس کی تشہیر (Promotion) اور مفت نمونوں کی تقسیم پر بھی پابندی لگا دی گئی ہے۔
  • عوامی مقامات پر صفائی: عوامی جگہ پر نسوار تھوکنے والے کو موقع پر 1,000 روپے جرمانہ کیا جائے گا۔