خیبرپختونخوا حکومت نے صوبے کی روایتی صنعت اور کاروبار کو ریگولیٹ کرنے کی سمت میں ایک بڑا قانونی قدم اٹھاتے ہوئے "نسوار ریگولیشن ایکٹ 2026" نافذ کر دیا ہے۔ اس نئے قانون کے تحت صوبے بھر میں بغیر لائسنس کے نسوار تیار کرنے، ذخیرہ کرنے اور فروخت کرنے کو باقاعدہ جرم قرار دے دیا گیا ہے۔
محکمہ خوراک اور متعلقہ حکام کے مطابق، اس ایکٹ کا مقصد نسوار کی تیاری میں استعمال ہونے والے اجزاء کی نگرانی کرنا اور اسے صحت کے عالمی اصولوں کے مطابق بنانا ہے۔ قانون کے تحت اب ہر چھوٹے بڑے مینوفیکچرر اور دکاندار کے لیے متعلقہ حکام سے لائسنس حاصل کرنا لازمی ہوگا۔
حکومتی اعلامیے میں واضح کیا گیا ہے کہ ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے والوں، خصوصاً بغیر لائسنس کاروبار کرنے والوں پر 30 ہزار روپے تک کا فوری جرمانہ عائد کیا جائے گا، جبکہ مسلسل خلاف ورزی کی صورت میں دکان یا کارخانہ سیل کرنے اور قانونی کارروائی کی تنبیہ بھی کی گئی ہے۔ صوبائی حکومت کا موقف ہے کہ اس اقدام سے نہ صرف ٹیکس نیٹ میں اضافہ ہوگا بلکہ غیر معیاری اور مضرِ صحت اشیاء کی فروخت پر بھی قابو پایا جا سکے گا۔
نئے قانون کی اہم تفصیلات: