اسلام آباد میں عوامی مسائل کے فوری حل اور انصاف کی فراہمی کے نظام کو مزید مؤثر بنانے کے لیے ایک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں نوید کامران بلوچ نے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر سے ملاقات کی۔
ملاقات کے دوران ادارہ جاتی تعاون، شفافیت اور سرکاری اداروں کے خلاف عوامی شکایات کے مؤثر ازالے پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انصاف تک رسائی کو مزید آسان بنانے اور احتساب کے نظام کو مضبوط کرنے کی اشد ضرورت ہے۔
وفاقی محتسب نوید کامران بلوچ نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ادارے نے گزشتہ برس دو لاکھ اکسٹھ ہزار سے زائد شکایات نمٹائیں، جن میں سے 97 فیصد فیصلوں پر عملدرآمد بھی ہو چکا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تمام کیسز 60 دن کی مقررہ مدت کے اندر نمٹائے گئے، جبکہ شکایات درج کرانے کے لیے نہ وکیل کی ضرورت ہوتی ہے اور نہ ہی کوئی فیس لی جاتی ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ ملک کے 28 شہروں میں وفاقی محتسب کے دفاتر قائم ہیں، جبکہ دور دراز علاقوں میں کھلی کچہریوں کے ذریعے عوام کو فوری ریلیف فراہم کیا جا رہا ہے۔
اس موقع پر چیف جسٹس جسٹس سردار محمد سرفراز ڈوگر نے وفاقی محتسب کے کردار کو سراہتے ہوئے کہا کہ سرکاری اداروں کی بدانتظامی کے خلاف شہریوں کو فوری اور مفت انصاف فراہم کرنے میں یہ ادارہ کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔
ملاقات کے اختتام پر دونوں فریقین نے اس عزم کا اظہار کیا کہ عوامی شکایات کے ازالے کے نظام کو مزید فعال بنایا جائے گا اور اداروں کے درمیان روابط کو مضبوط کر کے انصاف کی فراہمی کو مزید بہتر بنایا جائے گا۔