متحدہ عرب امارات نے مبینہ طور پر امریکا سے درخواست کی ہے کہ ایران جنگ کے باعث خطے میں بڑھتے بحران کی صورت میں اسے مالیاتی تحفظ کے لیے ہنگامی معاون نظام فراہم کیا جائے۔
رپورٹس کے مطابق یو اے ای کو خدشہ ہے کہ طویل تنازع اس کی معیشت، زرمبادلہ ذخائر اور عالمی مالیاتی مرکز کے طور پر اس کی پوزیشن کو متاثر کر سکتا ہے۔ اس حوالے سے امریکی اور اماراتی حکام کے درمیان اعلیٰ سطحی بات چیت ہوئی، جس میں ممکنہ کرنسی سوئپ لائن اور مالیاتی سپورٹ پر غور کیا گیا۔
امریکی حکام کے مطابق یو اے ای نے متبادل کرنسیوں کے استعمال کے امکانات پر بھی بات کی ہے، جبکہ موجودہ نظام میں اس کا امریکی ڈالر سے مضبوط تعلق برقرار ہے۔
معاشی ماہرین کے مطابق اگر خطے میں کشیدگی بڑھتی ہے تو سرمایہ کاری کے بہاؤ اور تیل کی منڈیوں میں عدم استحکام یو اے ای سمیت پورے خلیجی خطے کے لیے چیلنج بن سکتا ہے۔