ایران اور امریکا کے درمیان جاری کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان کی میزبانی میں اہم اور غیر معمولی نوعیت کے مذاکرات کا آج باقاعدہ آغاز ہو رہا ہے، جس نے عالمی سطح پر توجہ اپنی جانب مبذول کر لی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق امریکی نائب صدرجے ڈی وینس اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ آمد کے فوراً بعد انہوں نے وزیراعظم شہباز شریف سے ملاقات کی، جس میں خطے کی صورتحال اور مجوزہ مذاکراتی عمل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
امریکی وفد میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد اور مشرقِ وسطیٰ کے امور کے ماہرجیرڈ کوشنر کے علاوہ خصوصی ایلچی سٹیو وٹ کوف بھی شامل ہیں۔
نور خان ایئر بیس پر امریکی وفد کا پرتپاک استقبال کیا گیا، جہاں نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور فیلڈ مارشل عاصم منیر نے اعلیٰ سطح پر استقبال کیا۔ اس موقع پر وزیر داخلہ محسن نقوی اور امریکی ناظم الامور نیٹلی بیکر بھی موجود تھیں۔
ذرائع کے مطابق سیکیورٹی کے غیر معمولی انتظامات کیے گئے تھے، اور ایئرپورٹ سے ریڈ زون تک تمام راستوں کو مکمل طور پر محفوظ بنایا گیا۔
دوسری جانب ایرانی وفد بھی گزشتہ رات اسلام آباد پہنچا، جس کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں۔ ایرانی وفد کا بھی شاندار استقبال کیا گیا، جس میں اعلیٰ پاکستانی حکام شریک ہوئے۔
یہ وفد تقریباً 70 افراد پر مشتمل ہے، جن میں تکنیکی ماہرین، پالیسی ساز اور میڈیا نمائندگان شامل ہیں۔ وفد کے ہمراہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سمیت اہم حکومتی شخصیات بھی موجود ہیں، جو مذاکرات کے مختلف پہلوؤں پر اپنی مہارت فراہم کریں گی۔
مذاکرات سے قبل ایک جذباتی منظر بھی دیکھنے میں آیا، جب ایرانی وفد کے طیارے میں کچھ نشستیں خالی چھوڑی گئیں۔ یہ اقدام حالیہ واقعے میں جاں بحق ہونے والے بچوں کی یاد میں کیا گیا، جسے ایرانی قیادت نے عالمی ضمیر کو جھنجھوڑنے کی کوشش قرار دیا۔
اسلام آباد میں آج ہونے والی ملاقاتیں انتہائی اہمیت کی حامل ہیں، جہاں پہلے امریکی وفد وزیراعظم سے تفصیلی مشاورت کرے گا، جبکہ بعد ازاں ایرانی وفد کے ساتھ براہ راست مذاکرات متوقع ہیں۔
ایرانی قیادت نے پاکستان پہنچنے پر واضح کیا کہ وہ سنجیدہ مذاکرات کے لیے تیار ہیں، تاہم امریکا پر اعتماد کے حوالے سے اپنے تحفظات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اگر ان کے بنیادی حقوق کو تسلیم کیا گیا اور کوئی قابلِ قبول معاہدہ سامنے آیا تو مثبت پیش رفت ممکن ہے۔
بین الاقوامی مبصرین کے مطابق یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ پورے خطے کے امن کے لیے فیصلہ کن ثابت ہو سکتے ہیں۔ اس وقت عالمی برادری کی نظریں اسلام آباد پر مرکوز ہیں، جہاں ایک ممکنہ سفارتی پیش رفت خطے کی تقدیر بدل سکتی ہے۔