دیر لوئر : خیبر پختونخوا کے ضلع دیر لوئر کے علاقے تالاش میں سات ماہ قبل لاپتہ ہونے والی معصوم بچی مسرورہ کے حوالے سے انتہائی افسوسناک خبر سامنے آئی ہے۔ پولیس حکام کے مطابق نگری بالا کے دشوار گزار پہاڑی علاقے سے ایک انسانی ڈھانچہ برآمد ہوا ہے جس کی ابتدائی شناخت لاپتہ بچی مسرورہ کے طور پر کر لی گئی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملتے ہی ایس ایچ او تالاش، نظیر بادشاہ خان بھاری نفری کے ہمراہ جائے وقوعہ پر پہنچے اور علاقے کو گھیرے میں لے کر شواہد اکٹھے کیے۔ پولیس کے مطابق موقع سے ملنے والی قمیص اور دیگر انسانی اعضاء کی روشنی میں تفتیش جاری ہے۔ بچی کے والد نے جائے وقوعہ پر پہنچ کر لباس اور باقیات کی مدد سے اپنی بیٹی کی ابتدائی شناخت کی، جس کے بعد علاقے کی فضا سوگوار ہو گئی۔
پولیس نے نگری بالا کے پہاڑی سلسلے میں سرچ آپریشن مکمل کرتے ہوئے تمام برآمد شدہ اعضاء کو شناخت اور جامع فرانزک تجزیہ کے لیے متعلقہ حکام کے سپرد کر دیا ہے۔ پولیس حکام کا کہنا ہے کہ ڈی این اے ٹیسٹ اور فرانزک رپورٹ کے بعد ہی موت کی اصل وجوہات کا تعین کیا جا سکے گا۔ واقعے نے پورے علاقے میں غم و غصے کی لہر دوڑا دی ہے اور مقامی افراد نے ملزمان کی فوری گرفتاری اور انصاف کی فراہمی کا مطالبہ کیا ہے۔