حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
1979 کے بعد پہلی دفعہ ایران امریکی اعلی سطحی قیادت اسلام آباد میں آمنے سامنے Home / پاکستان /

1979 کے بعد پہلی دفعہ ایران امریکی اعلی سطحی قیادت اسلام آباد میں آمنے سامنے

ایڈیٹر - 11/04/2026
1979 کے بعد پہلی دفعہ ایران امریکی اعلی سطحی قیادت اسلام آباد میں  آمنے سامنے

اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے اعلیٰ حکام کے درمیان شروع ہونے والے مذاکرات کو ماہرین 1979 کے ایرانی اسلامی انقلاب کے بعد دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک غیر معمولی سفارتی پیش رفت قرار دے رہے ہیں۔

یہ ملاقات اس حوالے سے بھی اہم سمجھی جا رہی ہے کہ 2015 کے بعد پہلی مرتبہ دونوں ممالک کے نمائندے براہِ راست آمنے سامنے بیٹھے ہیں۔ 2015 میں باراک اوباما کے دورِ حکومت میں ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق ایک تاریخی معاہدہ طے پایا تھا، تاہم 2018 میں ڈونلڈ ٹرمپ نے اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کرتے ہوئے اسے ختم کر دیا، جس کے بعد خطے میں کشیدگی دوبارہ شدت اختیار کر گئی۔

معاہدے کے خاتمے کے بعد علی خامنہ ای نے امریکا کے ساتھ براہِ راست مذاکرات پر پابندی عائد کر دی، جس کے نتیجے میں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی روابط نہایت محدود ہو کر رہ گئے۔

ایران اور امریکا کے تعلقات کی تاریخ کئی دہائیوں پر محیط ہے، جس کی بنیاد 1950 کی دہائی میں پڑی۔ اس دور میں محمد مصدق کی حکومت نے تیل کے وسائل کو قومی تحویل میں لینے کا فیصلہ کیا، جس سے مغربی طاقتوں کے ساتھ شدید تنازع پیدا ہوا۔ اس کے بعد 1953 میں سی آئی اے کی مبینہ معاونت سے مصدق حکومت کا خاتمہ ہوا اور محمد رضا پہلوی دوبارہ اقتدار میں آ گئے، جسے ایران میں بیرونی مداخلت کے طور پر دیکھا جاتا ہے۔

بعد ازاں 1979 کے انقلاب نے پورے منظرنامے کو تبدیل کر دیا، جب ایران میں اسلامی نظام قائم ہوا اور امریکا کے ساتھ تعلقات کشیدہ ہو گئے۔ اسی سال تہران میں امریکی سفارتخانے پر قبضے اور 52 امریکی اہلکاروں کو یرغمال بنائے جانے کے واقعے نے دونوں ممالک کے تعلقات کو مکمل طور پر منقطع کر دیا۔

1980 کی دہائی میں ایران عراق جنگ کے دوران امریکا کی عراق حمایت نے دشمنی کو مزید گہرا کیا، جبکہ بعد کے برسوں میں اقتصادی پابندیاں، خلیجی کشیدگی اور دیگر تنازعات نے اس خلیج کو وسیع تر بنا دیا۔

1990 اور 2000 کی دہائیوں میں امریکا نے ایران پر سخت پابندیاں عائد کیں، جبکہ 2002 میں ایران کو “Axis of Evil” میں شامل کیے جانے کے بعد تعلقات مزید خراب ہو گئے۔ تاہم 2003 سے 2015 کے درمیان جوہری پروگرام پر مذاکرات کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا، جو بالآخر معاہدے کی صورت میں سامنے آیا، لیکن یہ پیش رفت بھی دیرپا ثابت نہ ہو سکی۔

2020 میں قاسم سلیمانی کی ہلاکت نے کشیدگی کو ایک بار پھر عروج پر پہنچا دیا۔ اس کے بعد وقفے وقفے سے محدود سفارتی کوششیں جاری رہیں، مگر بنیادی اختلافات برقرار رہے۔

حالیہ برسوں میں ایک بار پھر سفارتی سرگرمیوں میں تیزی آئی ہے، اور 2025 کے دوران مختلف ممالک کی ثالثی سے مذاکرات کی راہ ہموار ہوئی۔ اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی کے طور پر اسلام آباد میں ہونے والے یہ مذاکرات سامنے آئے ہیں، جنہیں دونوں ممالک کے تعلقات میں ممکنہ بہتری کی نئی امید کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر یہ مذاکرات کامیاب ہوتے ہیں تو نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات میں بہتری آ سکتی ہے بلکہ اس کے اثرات پورے مشرقِ وسطیٰ اور عالمی سیاست پر بھی مرتب ہوں گے۔