حسبان میڈیا - Hasban Media Logo
ایرانی وفد کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ Home / پاکستان /

ایرانی وفد کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

ایڈیٹر - 11/04/2026
ایرانی وفد کے بعد امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔

پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں ایران اور امریکا کے درمیان کشیدگی کم کرنے کے لیے اہم سفارتی عمل کا آج باضابطہ آغاز ہو رہا ہے، جس پر عالمی توجہ مرکوز ہو گئی ہے۔

اس سلسلے میں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس ایک اعلیٰ سطحی وفد کے ہمراہ اسلام آباد پہنچ چکے ہیں۔ ان کے ہمراہ مشرقِ وسطیٰ امور کے ماہر جیرڈ کشنر اور خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف بھی شامل ہیں۔

امریکی وفد کا استقبال نور خان ایئر بیس پر اعلیٰ سرکاری پروٹوکول کے تحت کیا گیا، جہاں اسحاق ڈار اور عاصم منیر نے خود وفد کا خیرمقدم کیا۔ اس موقع پر محسن نقوی اور امریکی سفارتی اہلکار نیٹلی بیکر بھی موجود تھیں۔

سفارتی ذرائع کے مطابق غیر معمولی سیکیورٹی انتظامات کیے گئے ہیں، اور ایئر بیس سے ریڈ زون تک کے راستوں کو مکمل طور پر محفوظ بنایا گیا ہے۔ آج کے دن کو سفارتی لحاظ سے انتہائی اہم قرار دیا جا رہا ہے، جہاں امریکی وفد کی شہباز شریف سے ملاقات کے بعد ایرانی وفد کے ساتھ براہ راست بات چیت متوقع ہے۔

دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کی قیادت میں ایک بڑا وفد پہلے ہی اسلام آباد پہنچ چکا ہے۔ وفد میں تقریباً 70 افراد شامل ہیں، جن میں تکنیکی ماہرین، پالیسی ساز اور میڈیا نمائندگان شامل ہیں۔ اس وفد میں عباس عراقچی سمیت دیگر اعلیٰ حکام بھی شریک ہیں۔

ایرانی وفد کے استقبال کے لیے بھی پاکستانی قیادت کی اعلیٰ شخصیات ایئرپورٹ پر موجود رہیں، جہاں دونوں ممالک کے درمیان سفارتی گرمجوشی کا مظاہرہ کیا گیا۔

دورانِ پرواز ایک علامتی اقدام بھی سامنے آیا، جب ایرانی وفد کے طیارے میں سامنے کی نشستیں خالی رکھی گئیں۔ یہ اقدام مبینہ طور پر ایک حالیہ سانحے میں جان کی بازی ہارنے والے بچوں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے کیا گیا، جسے عالمی سطح پر ایک جذباتی پیغام کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

اسلام آباد پہنچنے کے بعد میڈیا سے گفتگو میں محمد باقر قالیباف نے کہا کہ ایران مثبت نیت کے ساتھ مذاکرات میں شریک ہو رہا ہے، تاہم امریکا پر عدم اعتماد برقرار ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ اگر ایران کے مفادات اور حقوق کو تسلیم کیا گیا تو معاہدے کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

ذرائع کے مطابق باضابطہ مذاکرات سے قبل ایرانی وفد کی وزیراعظم شہباز شریف سے علیحدہ ملاقات بھی متوقع ہے، جس میں مذاکراتی حکمت عملی اور ممکنہ نکات پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ یہ مذاکرات نہ صرف ایران اور امریکا کے تعلقات بلکہ پورے خطے کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اور پاکستان کی ثالثی کا کردار اس عمل میں کلیدی حیثیت اختیار کر گیا ہے۔