کراچی: مشرقِ وسطیٰ کی کشیدہ صورتحال میں اچانک اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں امریکا کے دباؤ کے بعد اسرائیل لبنان کے ساتھ براہِ راست جنگ بندی مذاکرات پر آمادہ ہو گیا ہے۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق اس تبدیلی کے پیچھے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو کے درمیان ہونے والی ایک سخت نوعیت کی ٹیلیفونک گفتگو کو بنیادی سبب قرار دیا جا رہا ہے۔
امریکی اور اسرائیلی ذرائع کا کہنا ہے کہ جمعرات کو ہونے والی اس گفتگو کو غیر معمولی طور پر “سخت” قرار دیا گیا، جس کے فوری بعد اسرائیل نے لبنان کے ساتھ براہِ راست بات چیت شروع کرنے کا عندیہ دیا۔ اطلاعات کے مطابق نیتن یاہو کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اگر اسرائیل نے خود پیش رفت نہ کی تو امریکا یکطرفہ طور پر جنگ بندی کا اعلان بھی کر سکتا ہے۔
ادھر امریکی نشریاتی اداروں کی رپورٹس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ لبنان کو اس مجوزہ جنگ بندی معاہدے میں غیر متوقع طور پر شامل کیا گیا، اور اس فیصلے سے اسرائیلی قیادت کو بھی آخری لمحات میں آگاہ کیا گیا۔ ذرائع کے مطابق صدر ٹرمپ نے نیتن یاہو پر زور دیا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے خلاف جاری حملوں میں کمی لائیں، خاص طور پر ایسے وقت میں جب حالیہ اسرائیلی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
یہ پیش رفت ایک ایسے موقع پر سامنے آئی ہے جب ایک دن قبل ہی امریکا کی جانب سے ایران کے ساتھ دو ہفتوں کی جنگ بندی کا اعلان کیا گیا تھا، جبکہ واشنگٹن کا مؤقف تھا کہ اسرائیلی حملوں نے اس کوشش کو متاثر کیا۔
مبصرین کے مطابق تیزی سے بدلتی ہوئی یہ صورتحال خطے میں ایک بڑے سفارتی موڑ کی نشاندہی کر رہی ہے، جہاں عالمی طاقتوں کا دباؤ براہِ راست میدانِ جنگ کی حکمت عملی پر اثر انداز ہو رہا ہے۔