اسلام آباد/تل ابیب: پاکستان کے وزیرِ دفاع کے متنازع بیان کے بعد پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سفارتی کشیدگی میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، جہاں اسرائیلی قیادت نے سخت ردعمل ظاہر کیا ہے۔
وزیرِ دفاع خواجہ آصف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے ایک بیان میں اسرائیلی کارروائیوں پر شدید تنقید کرتے ہوئے لبنان اور دیگر علاقوں میں جاری فوجی اقدامات کو ہدف بنایا تھا۔ انہوں نے شہری ہلاکتوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اسرائیل کے کردار پر سنگین الزامات عائد کیے تھے۔
تاہم بعد ازاں ان کی مذکورہ پوسٹ سوشل میڈیا سے ہٹا دی گئی، جس کے بعد اسرائیلی حکام کی جانب سے سخت ردعمل سامنے آیا۔
اسرائیلی وزیرِ اعظم کے دفتر سے جاری بیان میں پاکستانی وزیرِ دفاع کے ریمارکس کو انتہائی اشتعال انگیز قرار دیا گیا اور کہا گیا کہ ایسے بیانات کسی بھی ریاست کے لیے ناقابل قبول ہوتے ہیں، خصوصاً جب وہ خود کو غیر جانبدار ثالث کے طور پر پیش کرتی ہو۔
مزید برآں اسرائیل کے وزیرِ خارجہ نے بھی اپنے ردعمل میں کہا کہ اس نوعیت کی زبان دراصل ریاست کے وجود کے خلاف بات کرنے کے مترادف ہے، جسے سنجیدگی سے لیا جانا چاہیے۔
حالیہ پیش رفت نے دونوں ممالک کے درمیان بیانات کی سطح پر کشیدگی کو نمایاں کر دیا ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق اس طرح کے بیانات خطے کی سفارتی فضا پر اثر انداز ہو سکتے ہیں۔