پشاور: خیبر پختونخوا حکومت کے اربوں روپے مالیت کے سولرائزیشن منصوبے میں پراجیکٹ ڈائریکٹر کی بار بار تبدیلی نے انتظامی شفافیت اور گورننس پر نئے سوالات کھڑے کر دیے ہیں۔
ذرائع کے مطابق صرف ایک ماہ کے دوران اس اہم عہدے پر تیسری مرتبہ تقرری کی گئی ہے، جبکہ تازہ تعیناتی بھی مبینہ طور پر مقررہ قواعد و ضوابط کے برعکس قرار دی جا رہی ہے۔ اطلاعات ہیں کہ اس عہدے کے لیے کم از کم 12 سالہ متعلقہ تجربہ لازمی قرار دیا گیا تھا، تاہم نئے تعینات افسر کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ وہ اس معیار پر پورا نہیں اترتے۔
اس صورتحال پر سرکاری اور تکنیکی حلقوں میں تشویش پائی جا رہی ہے اور اسے منصوبے کی شفافیت کے لیے خطرہ قرار دیا جا رہا ہے۔
اس سے قبل انجینئر پیر ایمل اس منصوبے کے پراجیکٹ ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے، تاہم انہیں اچانک عہدے سے ہٹا دیا گیا، جس کی وجوہات تاحال واضح نہیں کی گئیں۔
یاد رہے کہ خیبر پختونخوا حکومت کا یہ سولرائزیشن منصوبہ تقریباً 40 ارب روپے کی لاگت سے شروع کیا گیا ہے، جس کا مقصد صوبے میں توانائی کے متبادل ذرائع کو فروغ دینا ہے، تاہم حالیہ پیش رفت نے اس کی انتظامی سمت پر سوالیہ نشان لگا دیا ہے۔