اسلام آباد: نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی (نادرا) نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ اپنے قومی شناختی کارڈز کی بروقت تجدید یقینی بنائیں، بصورت دیگر اہم سہولیات کی معطلی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
نادرا کے ترجمان کے مطابق میعاد ختم ہونے والے شناختی کارڈز کے باعث بینکنگ سروسز، موبائل سمز اور دیگر ضروری سہولیات متاثر ہو سکتی ہیں، جبکہ سرکاری و سماجی فلاحی پروگراموں تک رسائی بھی محدود ہونے کا امکان ہے۔
ادارے نے واضح کیا ہے کہ تاخیر سے تجدید کی صورت میں جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، تاہم فی الحال اس پر عملدرآمد نہیں کیا جا رہا۔ حکام کے مطابق ملک بھر میں بڑی تعداد میں شناختی کارڈز اور متعلقہ دستاویزات کی مدت ختم ہو چکی ہے، جبکہ شہریوں کو بروقت آگاہ کرنے کے لیے ایس ایم ایس الرٹس بھی جاری کیے جا رہے ہیں۔
نادرا نے 18 سال مکمل کرنے والے افراد کو ہدایت کی ہے کہ فوری طور پر شناختی کارڈ حاصل کریں، کیونکہ پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی پالیسی کے تحت فعال شناختی کارڈ کے بغیر موبائل سروس حاصل کرنا ممکن نہیں۔
اعداد و شمار کے مطابق اس وقت 81 لاکھ سے زائد موبائل سمز ایسے شناختی کارڈز پر رجسٹرڈ ہیں جن کی میعاد ختم ہو چکی ہے، اور انہیں کسی بھی وقت بند کیا جا سکتا ہے۔ مزید برآں، متوفی افراد کے نام پر رجسٹرڈ سمز بھی بلاک ہونے کے خطرے سے دوچار ہیں، اس لیے شہریوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ ایسی سمز کو فوری طور پر اپنے نام پر منتقل کروائیں۔
نادرا نے عندیہ دیا ہے کہ جون کے بعد تاخیر سے تجدید پر اضافی فیس اور جرمانے کا نفاذ متوقع ہے۔ شہری شناختی کارڈ کی تجدید کے لیے قریبی نادرا مراکز، پاک آئی ڈی موبائل ایپ اور ای سہولت مراکز سے رجوع کر سکتے ہیں۔