تہران: ایران نے لبنان میں حالیہ اسرائیلی کارروائیوں کو جنگ بندی معاہدے کی سنگین خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے سخت ردعمل کی وارننگ جاری کر دی ہے، جس سے مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی مزید بڑھنے کے خدشات پیدا ہو گئے ہیں۔
ایرانی صدر مسعود پزیشکیان نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے بیان میں کہا کہ لبنان پر اسرائیلی حملے نہ صرف جنگ بندی معاہدے کو نقصان پہنچا رہے ہیں بلکہ جاری سفارتی کوششوں کو بھی غیر مؤثر بنا رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایسے اقدامات خطے میں عدم استحکام کو بڑھانے کا سبب بنیں گے۔
صدر پزیشکیان نے واضح کیا کہ ایران اپنے اتحادیوں، بالخصوص لبنان، کی حمایت جاری رکھے گا اور کسی بھی ممکنہ صورتحال کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ تہران اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا کہ اس نے لبنان میں متعدد مقامات کو نشانہ بنایا ہے، جنہیں وہ حزب اللہ کے ٹھکانے قرار دیتا ہے۔
دوسری جانب ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے بھی جنگ بندی تجاویز کی خلاف ورزیوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابتدائی نکات پر عملدرآمد نہ ہونا مذاکراتی عمل کو متاثر کر رہا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران کی فضائی حدود کی خلاف ورزی اور یورینیئم افزودگی کے حق سے متعلق مؤقف کو بھی نظرانداز کیا گیا ہے۔
قالیباف کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے امریکی نائب صدر نے کہا کہ اگرچہ بعض نکات پر اختلاف موجود ہے، تاہم کئی امور پر اتفاق بھی پایا جاتا ہے، جو پیش رفت کی امید ظاہر کرتا ہے۔
ادھر اسرائیلی وزیرِاعظم نے واضح کیا ہے کہ ان کی حکومت حزب اللہ کے خلاف کارروائیاں جاری رکھے گی اور سیکیورٹی کے تقاضوں کے مطابق فیصلے کیے جائیں گے۔
تازہ صورتحال نے خطے میں ممکنہ کشیدگی اور سفارتی کوششوں کے مستقبل پر سوالیہ نشان کھڑا کر دیا ہے۔